Surah Al Ankabut Ayat 14 (29:14)
The Spider · Juz 20 · Makki
وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَلَبِثَ فِیْهِمْ اَلْفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمْسِیْنَ عَامًاؕ-فَاَخَذَهُمُ الطُّوْفَانُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ 14
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور بیشک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ ان میں پچاس سال کم ایک ہزار سال رہے پھر اس قوم کو طوفان نے پکڑ لیا اور وہ ظالم تھے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور بیشک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ ان میں پچاس سال کم ہزار برس رہا تو اُنہیں طوفان نے ا ٓ لیا اور وہ ظالم تھے۔
Tafseer (Urdu)
{و لقد ارسلنا نوحا الى قومه: اور بیشک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا۔} یہاں سے اللہ تعالی نے چند انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے واقعات بیان فرمائے ہیں اور ان سے مقصودحضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو ان تکلیفوں اور اذیتوں پر تسلی دینا ہے جو کفار مکہ کی طرف سے اپ کو پہنچا کرتی تھیں اس سلسلے میں سب سے پہلے حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کا واقعہ بیان فرمایا گیاچنانچہ اس ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم بیشک ہم نے اپ سے پہلے حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ ان میں پچاس سال کم ایک ہزار (یعنی 950) سال رہے اس پوری مدت میں انہوں نے قوم کو توحید اور ایمان کی دعوت دینے کا عمل جاری رکھا اور ان کی طرف سے پہنچنے والی سختیوں اور ایذاؤں پر صبر کیاجب وہ قوم اپنی حرکتوں سے باز نہ آئی اور مسلسل تکذیب کرتی رہی تو اس قوم کو طوفان کے عذاب نے پکڑ لیا اور وہ غرق کر دئیے گئے اور وہ شرک کر کے اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے تھے ۔لہذاا ے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ کچھ غم نہ کریں اور ا س بات کو سامنے رکھیں کہ حضرت نوح نے 950برس تک تبلیغ فرمائی لیکن اس طویل مدت میں ان کی قوم کے بہت کم لوگ ایمان لائے جبکہ اللہ تعالی کے فضل سے اپ کی کم مدت کی دعوت سے لوگوں کی ایک کثیر تعداد ایمان سے مشرف ہو چکی ہے۔(البحر المحیط العنکبوت تحت الایۃ: ۱۴ ۷ / ۱۴۰ خازن العنکبوت تحت الایۃ: ۱۴ ۳ / ۴۴۷ ملتقطا)