Surah Al Ankabut Ayat 31 (29:31)
The Spider · Juz 20 · Makki
وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰىۙ-قَالُوْۤا اِنَّا مُهْلِكُوْۤا اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِۚ-اِنَّ اَهْلَهَا كَانُوْا ظٰلِمِیْنَﭕ 31
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جب ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس خوشخبری لے کر آئے تو انہوں نے کہا: ہم ضرور اس شہر والوں کو ہلاک کرنے والے ہیں ۔ بیشک اس شہر والے ظالم ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جب ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس مژدہ لے کر آئے بولے ہم ضرور اس شہر والوں کو ہلاک کریں گے بیشک اس کے بسنے والے ستم گار ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{و لما جآءت رسلنا: اور جب ہمارے فرشتے آئے۔} اس ایت اور اس کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب علیہما الصلوۃ والسلام کی خوشخبری لے کر ائے تو انہوں نے کہا: ہم ضرورحضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام کے اس شہر والوں کو ہلاک کرنے والے ہیں ۔ بیشک اس شہر والے کفر اور طرح طرح کے گناہ کر کے اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں ۔ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے ان سے فرمایا:اس میں تو حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام بھی موجود ہیں جو کہ اللہ تعالی کے نبی اور اس کے مقرب بندے ہیں پھر تم اس شہر والوں کو کیسے ہلاک کرو گے ۔فرشتوں نے کہا: جو کوئی اس شہر میں ہے وہ ہمیں خوب معلوم ہے اور ہم حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام کے حال سے غافل نہیں ہم ضرور حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام اور ان کے گھر والوں کو نجات دیں گے البتہ ان کی بیوی کو نجات نہیں دیں گے کیونکہ وہ عذاب میں مبتلا ہو جانے والوں میں سے ہے۔( مدارک العنکبوت تحت الایۃ: ۳۱-۳۲ ص۸۹۱ روح البیان العنکبوت تحت الایۃ: ۳۱-۳۲ ۶ / ۴۶۶ ملتقطا) یہاں فرشتوں نے نجات دینے کی نسبت اپنی طرف کی اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالی کے بعض کام اس کے خاص بندوں کی طرف منسوب کئے جا سکتے ہیں کیونکہ نجات دینا در حقیقت اللہ تعالی کا کام ہے مگر فرشتوں نے کہا ہم نجات دیں گےلہذا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم دوزخ سے نجات دیتے ہیں ۔ حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جنت دیتے ہیں اورحضور انور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم مشکل کشائی کرتے ہیں ۔