Surah Al Ankabut Ayat 39 (29:39)
The Spider · Juz 20 · Makki
وَ قَارُوْنَ وَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ ﱎ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانُوْا سٰبِقِیْنَ 39
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور (ہم نے) قارون اور فرعون اور ہامان کو (ہلاک کیا) اور بیشک ان کے پاس موسیٰ روشن نشانیاں لے کر آئے تو انہوں نے زمین میں تکبر کیا اور وہ ہم سے نکل کر جانے والے نہ تھے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور قارون اور فرعون اور ہامان کو اور بیشک ان کے پاس موسیٰ روشن نشانیاں لے کر آیا تو اُنہوں نے زمین میں تکبر کیا اور وہ ہم سے نکل جانے والے نہ تھے۔
Tafseer (Urdu)
{و قارون و فرعون و هامن: اورقارون اور فرعون اور ہامان کو۔} یعنی قارون فرعون اور ہامان کو اللہ تعالی نے ہلاک فرمایااور بیشک ان کے پاس حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام روشن نشانیاں لے کر آئے تو انہوں نے زمین میں تکبر کیا اور حق قبول کرنے سے انکار کیا اور وہ ہم سے نکل کر جانے والے نہ تھے کہ ہمارے عذاب سے بچ سکتے بلکہ ہمارے عذاب کا حکم ان تک پہنچ کر رہا اور وہ ہلاک کر دئیے گئے۔(خازن العنکبوت تحت الایۃ: ۳۹ ۳ / ۴۵۱ روح البیان العنکبوت تحت الایۃ: ۳۹ ۶ / ۴۶۹ ملتقطا) ایت ’’و قارون و فرعون و هامن‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل: اس ایت سے دو مسئلے معلوم ہوئے (1)…یہاں اللہ تعالی نے قارون کو جو صرف زکوۃ کا انکار کرتا تھا فرعون اورہامان کے ساتھ ذکر فرمایا جو سارے دینی امور یعنی توحید و نبوت وغیرہ کا انکار کرتے تھے۔اس سے معلوم ہوا کہ ضروریات دین میں سے ایک چیز کا انکار کرنے والا ویسا ہی کافر ہے جیسے ساری باتوں کا منکر کافر ہے ۔ اسی وجہ سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے زکوۃ کے منکروں پر جہادکا حکم دے دیا اور مسیلمہ کذاب کی قوم پر جہاد فرمایا کیونکہ وہ مسیلمہ کو نبی مان کر مرتد ہو گئے تھے ۔ (2)…یہاں قارون کا ذکر پہلے اس لئے فرمایا گیا کہ وہ خاندانی شریف تھا۔ اس سے معلو م ہوا کہ اگر ایمان نہ ہو تو نسبی اور خاندانی عزت و شرافت عذاب سے نہیں بچا سکتی ۔ اس سے کفار قریش کو یہ سمجھانا مقصود ہے کہ تم ابراہیمی ہونے پر فخر نہ کروبلکہ ایمان لاو ورنہ عذاب کے لئے تیار رہو۔