Surah Al Ankabut Ayat 47 (29:47)
The Spider · Juz 21 · Makki
وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَؕ-فَالَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖۚ-وَ مِنْ هٰۤؤُلَآءِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِهٖؕ-وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الْكٰفِرُوْنَ 47
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اے حبیب!یونہی ہم نے تمہاری طرف کتاب نازل فرمائی تو وہ جنہیں ہم نے کتا ب عطا فرمائی وہ اِس پر ایمان لاتے ہیں ، اور کچھ اِن دوسروں میں سے ہیں جو اس پر ایمان لاتے ہیں ، اورکافر ہی ہماری آیتوں کا انکار کرتے ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اے محبوب یونہی تمہاری طرف کتاب اُتاری تو وہ جنہیں ہم نے کتا ب عطا فرمائی اس پر ایمان لاتے ہیں اور کچھ ان میں سے ہیں جو اس پر ایمان لاتے ہیں اور ہماری آیتوں سے منکر نہیں ہوتے مگر کافر۔
Tafseer (Urdu)
{و كذلك انزلنا الیك الكتب: اور اے محبوب! یونہی ہم نے تمہاری طرف کتاب نازل فرمائی۔} یعنی اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہم نے اپ کی طرف اسی طرح قران مجید نازل فرمایا جیسے اہل کتاب کی طرف توریت وغیرہ کتابیں اتاری تھیں تو وہ لوگ جنہیں ہم نے توریت عطا فرمائی جیسے کہ حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالی عنہ اور ان کے ساتھیوہ اس قران پر ایمان لاتے ہیں اور کچھ ان مکہ والوں میں سے بھی ہیں جو اس پر ایمان لاتے ہیں اور وہی کافر ہی ہماری آیتوں کاانکار کرتے ہیں جو کفر میں انتہائی سخت ہیں ۔( مدارک العنکبوت تحت الایۃ: ۴۷ ص۸۹۵ جلالین العنکبوت تحت الایۃ: ۴۷ ص۳۳۹ ملتقطا) ایت ’’و كذلك انزلنا الیك الكتب‘‘ سے متعلق دو باتیں : یہاں اس ایت سے متعلق دو باتیں ملاحظہ ہوں (1)…یہ سورت مکیہ ہے اور حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالی عنہ اور ان کے ساتھی مدینہ منورہ میں ایمان لائے اللہ تعالی نے یہاں ان کے ایمان لانے سے پہلے ان کی خبر دے دیتو یہ غیبی خبروں میں سے ہے۔( جمل العنکبوت تحت الایۃ: ۴۷ ۶ / ۷۷) (2)…جحود اس انکار کو کہتے ہیں جو معرفت کے بعد ہو یعنی جان بوجھ کر مکرجانا اور حقیقت بھی یہی تھی کہ یہودی خوب پہچانتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اللہ تعالی کے سچے نبی ہیں اور قرآن حق ہے یہ سب کچھ جانتے ہوئے انہوں نے عناد کی وجہ سے انکار کیا ۔( خازن العنکبوت تحت الایۃ: ۴۷ ۳ / ۴۵۳)