Surah Al Imran Ayat 100 (3:100)
Family of Imran · Juz 4 · Madani
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تُطِیْعُوْا فَرِیْقًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ یَرُدُّوْكُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ كٰفِرِیْنَ 100
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاے ایمان والو! اگر تم اہلِ کتاب میں سے کسی گروہ کی اطاعت کرو تو وہ تمہیں تمہارے ایمان کے بعد کفر کی حالت میں لوٹا دیں گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاے ایمان والو اگر تم کچھ کتابیوں کے کہے پر چلے تو وہ تمہارے ایمان کے بعد تمہیں کافر کر چھوڑیں گے۔
Tafseer (Urdu)
{ان تطیعوا: اگر تم اطاعت کرو۔}شاس بن قیس یہودی مسلمانوں کی مجلس کے قریب سے گزرا جس میں انصار کے دونوں قبیلے اوس اور خزرج نہایت محبت سے باتیں کر رہے تھے اسلام سے پہلے ان کی اپس میں بہت جنگ تھی اس یہودی کوان کے اتفاق سے بڑی تکلیف ہوئی چنانچہ اس نے ایک نوجوان یہودی سے کہا کہ تم ان کی گزشتہ جنگیں یاد دلا کر انہیں لڑا دو۔ اس نے ایسا ہی کیا اور کچھ قصیدے پڑھے جن میں ان کی گزشتہ جنگوں کا ذکر تھا۔ ان قصائد کو سن کر انصار کو اپنی گزشتہ جنگیں یاد اگئیں اور وہ اپس میں لڑ پڑے۔ قریب تھا کہ خون ریزی ہوجائے مدینے کے تاجدار صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فورا موقع پر تشریف لائے اور فرمایا کہ کیا جاہلیت کی حرکتیں کرتے ہوحالانکہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں۔یہ سن کر انہوں نے ہتھیار پھینک دئیے اور روتے ہوئے ایک دوسرے کے گلے لگ گئے ۔ اس پر یہ ایت کریمہ اتری۔ (در منثور ال عمران تحت الایۃ: ۱۰۰ ۲ / ۲۷۸-۲۷۹) اس سے معلوم ہوا کہ یہاں ایت میں کفر سے مراد کافروں والے کام ہیں یعنی اپنی’’ انا‘‘ کیلئے اپس میں جنگ کرنا۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ فتنہ فساد برپا کرنا اور مسلمانوں کو اپس میں لڑانا یہودیوں کا کام اور اپس میں پیار محبت پیدا کرنا اور صلح کروانا سراپا رحمتمجسم شفقت شفیع امت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی سنت ہے۔