Surah Al Imran Ayat 113 (3:113)
Family of Imran · Juz 4 · Madani
لَیْسُوْا سَوَآءًؕ-مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اُمَّةٌ قَآىٕمَةٌ یَّتْلُوْنَ اٰیٰتِ اللّٰهِ اٰنَآءَ الَّیْلِ وَ هُمْ یَسْجُدُوْنَ 113
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariیہ سب ایک جیسے نہیں ، اہلِ کتاب میں کچھ وہ لوگ بھی ہیں جو حق پر قائم ہیں ، وہ رات کے لمحات میں اللہ کی آیتوں کی تلاوت کرتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanسب ایک سے نہیں کتابیوں میں کچھ وہ ہیں کہ حق پر قائم ہیں اللہ کی آیتیں پڑھتے ہیں رات کی گھڑیوں میں اور سجدہ کرتے ہیں۔
Tafseer (Urdu)
{لیسوا سوآء: یہ سب ایک جیسے نہیں۔} جب حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالی عنہ اور ان کے ساتھی ایمان لائے تو یہودی علماء نے جل کر کہا کہ محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر ہم میں سے جو ایمان لائے ہیں وہ برے لوگ ہیں اگر یہ برے نہ ہوتے تو اپنے باپ دادا کا دین نہ چھوڑتے۔ اس پر یہ آیت نازل فرمائی گئی۔ (تفسیر قرطبی ال عمران تحت الایۃ: ۱۱۳ ۲ / ۱۳۶ الجزء الرابع ) اور بتادیا گیا کہ تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی غلامی میں انے والے ہی تو کام کے ادمی ہیں بقیہ کا حال تو انتہائی بدتر ہے۔ حضرت عطاء رحمۃاللہ تعالی علیہ کا قول ہے کہ یہاں جن لوگوں کی تعریف کی گئی ہے اس سے علاقہ نجران کے40 ادمی حبشہ کے32 ادمی اور روم کے8 ادمی مراد ہیں جو دین عیسوی پر تھے پھر حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر ایمان لائے۔(خازن ال عمران تحت الایۃ: ۱۱۳ ۱ / ۲۹۰-۲۹۱) ایت مبارکہ ’’ یتلون ایت الله انآء الیل‘‘ سے معلوم ہونے والے احکام: اس ایت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ نماز تہجد بہت اعلی عبادت ہے کہ یہاں رات کو اٹھ کر عبادت کرنے والوں کی بطور خاص تعریف کی گئی ہے اس سے نماز عشاء و تہجد دونوں ہی مراد ہوسکتے ہیں اور یہ بھی معلوم ہوا کہ نماز کے ارکانمیں سجدہ بہت افضل ہے کہ سجدے کا بھی بطورخاص تذکرہ کیا گیا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ رات کی عبادت نماز اور تلاوت دن کی ان عبادات سے افضل ہے کیونکہ جودل کی یکسوئی رات میں میسر ہوتی ہے دن میں نصیب نہیں ہوتی۔ ہمارے بزرگان دین اپنی راتیں عبادت و تلاوت میں گزارا کرتے تھے چنانچہ حضرت حسین بن علی کرابیسی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : میں نے کئی بار حضرت امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ رات گزاری اور میں نے دیکھا کہ اپ رضی اللہ تعالی عنہ ایک تہائی رات تک نماز پڑھتے اور پچاس ایات سے زیادہ تلاوت نہ کرتے اگر کبھی زیادہ پڑھتے تو بھی 100 ایات تک پہنچتے۔ جب کسی ایت رحمت کی تلاوت کرتے تو بارگاہ الہی عزوجل میں اپنے لئے اور تمام مومنین کے لئے رحمت ملنے کی دعا کرتے اور جب ایت عذاب پڑھتے تو اس سے پناہ طلب کرتے اور اپنے لئے اور تمام مسلمانوں کے لئے اللہ تعالی کی بارگاہ میں نجات کی دعا کرتے۔ (تاریخ بغداد ذکر من اسمہ محمد واسم ابیہ ادریس محمد بن ادریس بن العباس ابو عبد اللہ الشافعی۲ / ۶۱) حضرت فاطمہ بنت عبد الملک رحمۃاللہ تعالی علیہا فرماتی ہیں ’’ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللہ تعالی عنہ سے زیادہ نماز پڑھتا اور روزے رکھتا ہو لیکن میں نے لوگوں میں کوئی ایسا شخص کبھی نہیں دیکھا جو حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللہ تعالی عنہ سے زیادہ اپنے رب عزوجل سے ڈرتا ہو۔اپ رضی اللہ تعالی عنہ(رات کے وقت) جب گھر تشریف لاتے تو سجدے میں سر رکھ کر روتے اور دعا کرتے رہتے یہاں تک کہ نیند اپ رضی اللہ تعالی عنہ کی انکھوں پر غالب اجاتی اور رات میں پھر جب بیدار ہوتے تو اسی طرح کرتے(حلیۃ الاولیاء عمر بن عبد العزیز ۵ / ۲۹۴ رقم: ۷۱۷۴)۔[1] [1]…عبادت کی لگن و شوق پانے اور اس میں یکسوئی حاصل کرنے کے لئے امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ کے تحریر کردہ مدنی انعامات پر عمل کرنا اور دعوت اسلامی کے مدنی قافلوں میں سفر کرناانتہائی مفید ہے۔