Surah Al Imran Ayat 117 (3:117)
Family of Imran · Juz 4 · Madani
مَثَلُ مَا یُنْفِقُوْنَ فِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَثَلِ رِیْحٍ فِیْهَا صِرٌّ اَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَاَهْلَكَتْهُؕ-وَ مَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَ لٰـكِنْ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ 117
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاس دنیاوی زندگی میں جو خرچ کرتے ہیں اس کی مثال اس ہوا جیسی ہے جس میں شدید ٹھنڈ ہو، وہ ہوا کسی ایسی قوم کی کھیتی کو جاپہنچے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہو تو وہ ہوا اس کھیتی کو ہلاک کردے اور اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکہاوت اس کی جو اس دنیا کی زندگی میں خرچ کرتے ہیں اس ہوا کی سی ہے جس میں پالا ہو وہ ایک ایسی قوم کی کھیتی پر پڑی جو اپنا ہی برا کرتے تھے تو اسے بالکل مارگئی اور اللہ نے ان پر ظلم نہ کیا ہاں وہ خود اپنی جان پر ظلم کرتے ہیں۔
Tafseer (Urdu)
{مثل ما ینفقون فی هذه الحیوة الدنیا : اس دنیاوی زندگی میں خرچ کرنے والوں کی مثال۔}اس ایت میں کافر کے خرچ اور ریاکاری کے طور پر خرچ کرنے والے کی مثال بیان فرمائی گئی کہ ان کے خرچ کو ان کا کفر یا ریاکاری ایسے تباہ کردیتی ہے جیسے برفانی ہو اکھیتی کو برباد کردیتی ہے اور ان کے ساتھ یہ معاملہ کوئی ظلم و زیادتی نہیں بلکہ یہ ان کے کفر یا نفاق یا ریاکاری کا انجام ہے تو یہ خود ان کا اپنی جانوں پر ظلم ہے۔ مفسرین کا قول ہے کہ اس خرچ سے یہودیوں کا وہ خرچ مراد ہے جو وہ اپنے علماء اور سرداروں پر کرتے تھے وہ خرچہ بے فائدہ ہے اس کا انہیں کوئی ثواب نہ ملے گا۔ ایک قول یہ ہے کہ یہاں اس سے کفار کے تمام صدقات مراد ہیں کہ ان کا کوئی ثواب نہیں اور وہ صدقات ضائع ہیں اورایک قول یہ ہے کہ یہاں ریا کارکا خرچ کرنا مراد ہے۔(خازن ال عمران تحت الایۃ: ۱۱۷ ۱ / ۲۹۱-۲۹۲) کیونکہ اس کا خرچ کرنا یا دنیاوی نفع کے لئے ہوگا یااخرت کے نفع کے لئے۔ اگرصرف دنیاوی نفع کے لئے ہو تو آخرت میں اس سے کیا فائدہ اور ریاکار کو تو آخرت اور رضائے الہی مقصود ہی نہیں ہوتی بلکہ اس کا عمل تودکھاوے اور نمائش کے لئے ہوتا ہے ایسے عمل کا آخرت میں کیا نفع ہوگا جبکہ کافر کے تمام اعمال برباد ہیں وہ اگرچہ آخرت کی نیت سے بھی خرچ کرے تو نفع نہیں پاسکتا ان لوگوں کے لئے وہ مثال بالکل مطابق ہے جو اس آیت میں ذکر فرمائی جارہی ہے۔