Surah Al Imran Ayat 142 (3:142)
Family of Imran · Juz 4 · Madani
اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ یَعْلَمَ الصّٰبِرِیْنَ 142
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariکیا تم اس گمان میں ہو کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ گے حالانکہ ابھی اللہ نے تمہارے مجاہدوں کا امتحان نہیں لیا اور نہ(ہی) صبر والوں کی آزمائش کی ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکیا اس گمان میں ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے اور ابھی اللہ نے تمہارے غازیوں کا امتحان نہ لیا اور نہ صبر والوں کی آزمائش کی۔
Tafseer (Urdu)
{ام حسبتم ان تدخلوا الجنة : کیا تم اس گمان میں ہو کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ گے }یہاں مسلمان پر انے والی ازمائشوں کی حکمت کا بیان ہے کہ اللہ تعالی کی طرف سے اگر تمہیں ازمائشیں اتی ہیں تو اس پر بے قرار اور حیرت زدہ ہونے کی ضرورت نہیں کہ ہم تو مسلمان ہیں ہمیں اللہ تعالی کیوں تکلیفوں میں مبتلا فرما رہا ہےیاد رکھو کہ تمہارا امتحان کیا جائے گا تمہیں ایمان کی کسوٹی پر پرکھا جائے گا کہ اللہ عزوجل کی رضا کے لئے کیسے زخم کھاتے اور تکلیف اٹھاتے ہو اور کتنا ثابت قدم رہتے ہو۔ تھوڑی سی تکلیف پر چلا اٹھنا اور دہائی دینا شروع کردینا ایمان والوں کا شیوہ نہیں۔ جنت میں داخلہ مطلوب ہے تو ان ازمائشوں پر پورا اترنا پڑے گا اللہ عزوجل کی راہ میں قربانی دینا پڑے گی اور ہر حال میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنا پڑے گا۔ زباں پہ شکوہ رنج و الم لایا نہیں کرتے نبی کے نام لیوا غم سے گھبرایا نہیں کرتے اس میں ان لوگوں کو سرزنش (تنبیہ) ہے جو احد کے دن کفار کے مقابلہ سے بھاگے تھے۔نیز اس ایت کو سامنے رکھ کر ہمیں اپنے اعمال اور اپنی حالت پر بھی غور کرنا چاہیے کہ اگر ہمیں راہ خدا میں اپنا مال یا وقت دینا پڑے تو ہم اس میں کتنا پورا اترتے ہیں افسوس کہ ہماری حالت کچھ اچھی نہیں۔ فضولیات میں خرچ کرنے کیلئے پیسہ بھی ہے اور وقت بھی لیکن اللہ عزوجل کی راہ میں خرچ کرتے وقت نہ پیسہ باقی رہتا ہے اور نہ وقت۔ تنبیہ: ایت میں علم کا لفظ ہے یہاں اس سے مراد ازمائش کرنا ہے۔