Surah Al Imran Ayat 147 (3:147)
Family of Imran · Juz 4 · Madani
وَ مَا كَانَ قَوْلَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِیْۤ اَمْرِنَا وَ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ 147
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور وہ اپنی اس دعا کے سوا کچھ بھی نہ کہتے تھے کہ اے ہمارے رب ! ہمارے گناہوں کو اور ہمارے معاملے میں جو ہم سے زیادتیاں ہوئیں انہیں بخش دے اور ہمیں ثابت قدمی عطا فرما اور کافر قوم کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanوہ کچھ بھی نہ کہتے تھے سوا اس دعا کے کہ اے ہمارے رب بخش دے ہمارے گناہ اور جو زیادتیاں ہم نے اپنے کام میں کیں اور ہمارے قدم جما دے اور ہمیں ان کافر لوگوں پر مدد دے۔
Tafseer (Urdu)
{و ما كان قولهم الا ان قالوا ربنا: اور وہ اپنی اس دعا کے سوا کچھ بھی نہ کہتے تھے کہ اے ہمارے رب !۔} یعنی رسولوں کے ساتھی تکالیف پر بے صبری نہ دکھاتے اوردین کی حمایت اورجنگ کے مقامات میں ان کی زبان پر کوئی ایسا کلمہ نہ آتا جس میں گھبراہٹ پریشانی اور تزلزل (ڈگمگانے) کا شائبہ بھی ہوتا بلکہ وہ ثابت قدم رہتے اور مغفرت ثابت قدمی اورفتح و نصرت کی دعا کرتے۔ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے صحابہ کی جو دعا بیان کی گئی ہے اس میں انہوں نے اپنے اپ کو گنہگارکہا ہے یہ عاجزی انکساری اور بارگاہ الہی عزوجل کے اداب میں سے ہے۔ لیکن لطف کی بات یہ ہے کہ وہ خود کو گنہگار کہہ رہے ہیں اور ان کا پروردگار عزوجل انہیں ربانی یعنی اللہ والے فرما رہا ہے۔ اور حقیقت میں لطف کی بات یہی ہے بندہ خود کو گنہگار کہے اور اس کا رب عزوجل اسے ابرار (نیکو کار) فرمائے۔ کسی بزرگ کا فرمان ہے کہ’’ ساری دنیا مجھے مردود کہے اور رب کریم عزوجل کی بارگاہ میں میں مقبول قرار پاوں یہ اس سے بہتر ہے کہ ساری دنیا مجھے مقبول کہے اور رب کریم عزوجل کی بارگاہ میں میں مردود قرار پاوں۔ ایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں اپنی حاجت پیش کرنے سے پہلے توبہ و استغفار کرناآداب دعا میں سے ہے۔