Surah Al Imran Ayat 44 (3:44)
Family of Imran · Juz 3 · Madani
ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَؕ-وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ یُلْقُوْنَ اَقْلَامَهُمْ اَیُّهُمْ یَكْفُلُ مَرْیَمَ۪-وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ 44
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariیہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم خفیہ طور پر تمہیں بتاتے ہیں اور تم ان کے پاس موجود نہ تھے جب وہ اپنی قلموں سے قرعہ ڈالتے تھے کہ ان میں کون مریم کی پرورش کرے گا اور تم ان کے پاس نہ تھے جب وہ جھگڑ رہے تھے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanیہ غیب کی خبریں ہیں کہ ہم خفیہ طور پر تمہیں بتاتے ہیں اور تم ان کے پاس نہ تھے جب وہ اپنی قلموں سے قرعہ ڈالتے تھے کہ مریم کس کی پرورش میں رہیں اور تم ان کے پاس نہ تھے جب وہ جھگڑ رہے تھے۔
Tafseer (Urdu)
{ذلك من انبآء الغیب: یہ غیب کی خبریں ہیں۔} اس ایت میں فرمایا گیا کہ حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہا کا واقعہ غیب کی خبروں میں سے ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو غیب کے علوم عطا فرمائے ہیں۔ تمام انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے واقعات جو قران و حدیث میں ائے سب غیب کی خبریں ہیں۔ {اذ یلقون اقلامهم: جب وہ اپنی قلموں سے قرعہ ڈال رہے تھے۔} چونکہ بہت سے لوگ حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہا کی پرورش کے امیدوار تھے۔ اس لئے اپس میں بحث و مباحثہ کے بعد انہوں نے قرعہ اندازی پر فیصلہ چھوڑ دیا چنانچہ جن قلموں سے تورات لکھا کرتے تھے ان کے ذریعے قرعہ اندازی کی اور طے یہ پایا کہ ہر کوئی اپنا قلم پانی میں رکھے جس کا قلم پانی کے بہاو کے الٹی طرف بہنا شروع کر دے وہ کفالت کا حق دار ہو گا۔ سب نے اپنی اپنی قلم پانی میں ڈالی تو حضرت زکریا علیہ الصلوۃ والسلام کا قلم الٹی طرف بہنا شروع ہو گیا ا س طرح حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہا اپ علیہ الصلوۃ والسلام کی کفالت میں اگئیں۔(تفسیر کبیر ال عمران تحت الایۃ: ۴۴ ۳ / ۲۱۹) قرعہ اندازی کے ذریعے فیصلہ کرنا : اس سے معلوم ہوا کہ عام معاملات میں قرعہ اندازی سے بھی فیصلہ کیا جاسکتا ہے جیسے تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سفر میں ساتھ لے جانے کیلئے ازواج مطہرات کے درمیان قرعہ اندازی فرمایا کرتے تھے۔