Surah Al Imran Ayat 45 (3:45)
Family of Imran · Juz 3 · Madani
اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓىٕكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُۙ-اسْمُهُ الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ وَجِیْهًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ 45
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور یاد کرو جب فرشتو ں نے مریم سے کہا، اے مریم! اللہ تجھے اپنی طرف سے ایک خاص کلمے کی بشارت دیتا ہے جس کا نام مسیح ،عیسیٰ بن مریم ہوگا۔ وہ دنیا و آخرت میں بڑی عزت والا ہوگااور اللہ کے مقرب بندوں میں سے ہوگا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور یاد کرو جب فرشتو ں نے مریم سے کہا، اے مریم اللہ تجھے بشارت دیتا ہے اپنے پاس سے ایک کلمہ کی جس کا نام ہے مسیح عیسیٰ مریم کا بیٹا رُو دار ہوگا دنیا اور آخرت میں اور قرب والا۔
Tafseer (Urdu)
{ان الله یبشرك: بیشک اللہ تجھے بشارت دیتا ہے۔} حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کو کلمۃ اللہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ اپ علیہ الصلوۃ والسلام کے جسم شریف کی پیدائش کلمہ’’ کن‘‘ سے ہوئی باپ اور ماں کے نطفہ سے نہ ہوئی۔ رب تعالی فرماتا ہے: ان مثل عیسى عند الله كمثل ادم-خلقه من تراب ثم قال له كن فیكون(ال عمران:۵۹) ترجمہ کنزالعرفان: بےشک عیسی کی مثال اللہ کے نزدیک ادم کی طرح ہے۔ اسے مٹی سے پیدا کیا پھر اسے فرمایا ’’ہوجا‘‘ تو وہ ہوگیا۔ حضرت عیسی علیہ الصلوۃ و السلام کے بارے میں فرمایا کہ وہ اللہ عزوجل کا کلمہ ہیں نام مبارک عیسی ہے لقب مسیح ہے کیونکہ اپ علیہ الصلوۃ والسلام مس کرکے یعنی چھو کر شفا دیتے تھے دنیا و اخرت میں عزت و وجاہت والے ہیں اور رب کریم عزوجل کے مقرب بندے ہیں۔ اس ایت میں حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کی نسبت باپ کی بجائے ماں کی طرف کی گئی اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسی علیہ الصلوۃ و السلام بغیر باپ کے صر ف ماں سے پیدا ہوئے ہیں کیونکہ اگر اپ علیہ الصلوۃ والسلام کا کوئی باپ ہوتاتو یہاں اپ علیہ الصلوۃ والسلام کی نسبت ماں کی طرف نہ ہوتی بلکہ باپ کی طرف ہوتی ۔جیسا کہ قران مجید میں اللہ تعالی نے خود فرمایا ہے کہ ادعوهم لابآىهم هو اقسط عند الله(احزاب: ۵) ترجمہ کنزالعرفان:لوگوں کو ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو یہ اللہ کے نزدیک انصاف کے زیادہ قریب ہے۔