Surah Ar Rum Ayat 12 (30:12)
The Romans · Juz 21 · Makki
وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُبْلِسُ الْمُجْرِمُوْنَ 12
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جس دن قیامت قائم ہو گی مجرم مایوس ہوجائیں گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جس دن قیامت قائم ہو گی مجرموں کی آس ٹوٹ جائے گی۔
Tafseer (Urdu)
{و یوم تقوم الساعة: اور جس دن قیامت قائم ہوگی۔} یہاں سے قیامت کے دن مجرموں کی کیفیت بیان کی جا رہی ہے ۔اس ایت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ جس دن قیامت قائم ہو گی تو مجرموں کو کسی نفع اور بھلائی کی امید باقی نہ رہے گی۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ جس دن قیامت قائم ہو گی تو مجرموں کا کلام منقطع ہوجائے گا اور وہ خاموش رہ جائیں گے کیونکہ ان کے پاس پیش کرنے کے قابل کوئی حجت نہ ہوگی۔تیسری تفسیر یہ ہے کہ جس دن قیامت قائم ہو گی تو ا س دن مجرم رسوا ہوں گے۔یاد رہے کہ یہاں ایت میں مجرموں سے مراد مشرکین ہیں ۔( خازن الروم تحت الایۃ: ۱۲ ۳ / ۴۶۰ روح البیان الروم تحت الایۃ: ۱۲ ۷ / ۱۲ جلالین الروم تحت الایۃ: ۱۲ ص۳۴۱ مدارک الروم تحت الایۃ: ۱۲ ص۹۰۳ ملتقطا) {و لم یكن لهم من شركآىهم شفعؤا: اور ان کے شریک ان کے سفارشی نہ ہوں گے۔} یعنی سفارش کی امید پر مشرکین جن بتوں کو پوجتے تھے وہ قیامت کے دن ان کی سفارش کر کے انہیں اللہ تعالی کے عذاب سے نہ بچائیں گے اور مشرکین اپنے معبودوں سے مایوس ہو کر ان کا انکار کر دیں گے اور ان سے براء ت کا اظہار کریں گے۔( روح البیان الروم تحت الایۃ: ۱۳ ۷ / ۱۲ جلالین الروم تحت الایۃ: ۱۳ ص۳۴۲ ملتقطا) {و یوم تقوم الساعة: اور جس دن قیامت قائم ہو گی۔} ارشاد فرمایا کہ جس دن قیامت قائم ہو گی اس دن مسلمان اور کافر ایک دوسرے سے ایسے الگ الگ ہو جائیں گے کہ ائندہ پھر کبھی جمع نہ ہوں گے اور یہ اس طرح ہو گا کہ حساب کے بعد اہل جنت کوجنت میں داخل کر دیا جائے گا اور کفار کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔( جلالین الروم تحت الایۃ: ۱۴ ص۳۴۲ خازن الروم تحت الایۃ: ۱۴ ۳ / ۴۶۰ ملتقطا) اس کی مزیدتفصیل اگلی ایات میں ہے۔