Surah Ar Rum Ayat 19 (30:19)
The Romans · Juz 21 · Makki
یُخْرِ جُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِ جُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَاؕ-وَ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ 19
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariوہ زندہ کوبے جان سے نکالتاہے اور بے جان کو زندہ سے نکالتا ہے اور زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعدزندہ کرتا ہے اور یوں ہی تم نکالے جاؤ گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanوہ زندہ کو نکالتاہے مُردے سے اور مُردے کو نکالتا ہے زندہ سے اور زمین کو جِلاتا ہے اس کے مرےپیچھے اور یوں ہی تم نکالے جاؤ گے۔
Tafseer (Urdu)
{یخر ج الحی من المیت: وہ زندہ کو مردے سے نکالتاہے۔} اس ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالی زندہ کوبے جان سے جیسے کہ پرندے کو انڈے سے انسان کو نطفے سے اور مومن کو کافر سے نکالتاہے اور بے جان کو زندہ سے جیسے کہ انڈے کو پرندے سے نطفے کو انسان سے اورکافر کو مومن سے نکالتا ہے اور زمین کو خشک ہوجانے کے بعد بارش برسا کر اور اس سے سبزہ اگا کرزندہ کرتا ہے اور ا ن چیزوں کو نکالنے کی طرح تم بھی (قیامت کے دن) قبروں سے دوبارہ زندہ کر کے حساب کے لئے نکالے جاو گے۔(مدارک الروم تحت الایۃ: ۱۹ ص۹۰۴ خازن الروم تحت الایۃ: ۱۹ ۳ / ۴۶۱ ملتقطا) سورہ روم کی ایت نمبر17 18 19 کی فضیلت: حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہےحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے صبح کے وقت یہ کہہ دیا:’’فسبحن الله حین تمسون و حین تصبحون(۱۷)و له الحمد فی السموت و الارض و عشیا و حین تظهرون(۱۸)یخر ج الحی من المیت و یخر ج المیت من الحی و یحی الارض بعد موتها-و كذلك تخرجون‘‘ تو اس دن میں جو نیکی ا س سے چھوٹ گئی اس کا ثواب پالے گا اور جو شام کے وقت یہ کہہ دے تو اس رات میں جو نیکی اس سے چھوٹ گئی اس کا ثواب پا لے گا ۔( ابو داود کتاب الادب باب ما یقول اذا اصبح ۴ / ۴۱۴ الحدیث: ۵۰۷۶) مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : ’’نیکی چھوٹ جانے سے مراد نوافل نیکیاں چھوٹ جانا ہیں یا فرائض عبادات میں نقصان (یعنی کمی) رہ جانا ہے یعنی ر ب تعالی اس آیت کریمہ کی برکت سے بہت سی نفلی نیکیوں کا اجر عطا فرمائے گا اور اگر آج دن رات کے فرائض میں کچھ نقصان واقع ہوگیا ہوگا تو رب تعالی نقصان پورا فرمادے گا۔ اس حدیث کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تمام فرائض وواجبات چھوڑ دو صرف یہ ہی آیت صبح شام پڑھ لیا کرو۔(مراۃ المناجیح کتاب الدعوات باب ما یقول عند الصباح والمساء والمنام الفصل الاول ۴ / ۳۳-۳۴)