Surah Ar Rum Ayat 22 (30:22)
The Romans · Juz 21 · Makki
وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَ اَلْوَانِكُمْؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْعٰلِمِیْنَ 22
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کا اختلاف اس کی نشانیوں میں سے ہے، بے شک اس میں علم والوں کے لئے نشانیاں ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اس کی نشانیوں سے ہے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور رنگتوں کا اختلاف بے شک اس میں نشانیاں ہیں جاننے والوں کے لئے۔
Tafseer (Urdu)
{و من ایته: اور اس کی نشانیوں سے ہے۔} اس سے پہلی دو ایات میں اللہ تعالی نے اپنی قدرت کی وہ نشانیاں بیان فرمائیں جو انسان کی اپنی ذات میں ہیں جبکہ ا س ایت میں خارجی کائنات کی تخلیق اور انسان کی لازمی صفات سے اپنی وحدانیت پر استدلال فرمایا ہے۔ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے لوگو! اسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کا اختلاف اللہ تعالی کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے کہ تم اسمان کی طرف دیکھو کہ وہ انتہائی وسیع اور بلند ہے اس میں رات کے وقت ستارے روشن ہوتے اور یہ اسمان کی زینت ہیں اسی طرح زمین کی طرف دیکھو کہ کتنی طویل و عریض ہے پانی کی طرح نرم نہیں بلکہ سخت ہےاس پر پر ہیبت پہاڑ نصب ہیں اس میں وسیع و عریض میدان گھنے جنگلات اور ریت کے ٹیلے ہیں دریا اور سمندر جاری ہیں نباتات کا ایک سلسلہ قائم ہے لہلہاتے ہوئے زرخیز کھیت پھلوں سے لدے اور پھولوں کے مہکتے ہوئے باغات ہیں ۔یونہی تم اپنی زبانوں کے اختلاف پر غور کرو کہ کوئی عربی بولتا ہے کوئی فارسی اورکوئی ان کے علاوہ دوسری زبان بولتا ہے۔ایسے ہی تم اپنے رنگوں پر غور کرو کہ کوئی گورا ہے کوئی کالا کوئی گندمی حالانکہ تم سب کی اصل ایک ہے اور تم سب حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد ہو۔ اسی طرح تم اپنی جسمانی ساخت پر غور کرو کہ ہر انسان کی دو انکھیں دو ابروایک ناک ایک پیشانیایک منہ اور دو گالیں ہیں اور انسانوں کی تعداد اربوں میں ہونے کے باوجود کسی کا رنگ چہرہ اور نقش دوسرے سے پورا پورا نہیں ملتا بلکہ ہر ایک دوسرے سے جدا ہی نظر اتا ہے اور اگر ہر ایک کی شکل اور اواز ایک جیسی ہوتی تو ایک دوسرے کی پہچان مشکل ہو جاتی اور بے شمار مصلحتیں ختم ہو کر رہ جاتیں اچھے اخلاق والے اور برے اخلاق والے میں دوست اور دشمن میں قریبی اور دور والے میں امتیاز نہ ہو پاتا۔اب تم یہ بتاو کہ کیا یہ سب چیزیں خود ہی وجود میں ا گئیں ہیں یا یہ محض اتفاق ہے یا یہ چند خداوں نے مل کر یہ کارنامہ سر انجام دیاہے اگر ایسا ہے تو پھر اسمان و زمین میں ہزاروں سال سے اس قدر نظم اور تسلسل کیوں قائم ہے اور اس میں کبھی اختلاف کیوں نہیں ہواان زبانوں رنگوں اور شکلوں کا خالق کون ہےاگر تم علم اور انصاف کی نظر سے دیکھو گے تو جان لوگے کہ یہ سب صرف اللہ تعالی کی قدرت کا شاہکار ہیں ۔( تفسیرکبیر الروم تحت الایۃ: ۲۲ ۹ / ۹۲ ابن کثیر الروم تحت الایۃ: ۲۲ ۶ / ۲۷۹ خازن الروم تحت الایۃ: ۲۲ ۳ / ۴۶۱ -۴۶۲ مدارک الروم تحت الایۃ: ۲۲ ص۹۰۵ ملتقطا) اس کائنات کا کامل قدرت رکھنے والا ایک ہی خالق موجود ہے: یاد رہے کہ یہ کائنات نہ تو کسی سبب اور علت کے بغیر اپنے طبعی تقاضوں سے وجود میں ائی ہے اور نہ ہی اس کا انتہائی مربوط اور متناسب نظام کسی چلانے والے کے بغیر چل رہا ہے بلکہ ایک ایسی ذات ضرور موجود ہے جس نے اپنی کامل قدرت سے ا س کائنات اور اس میں موجود طرح طرح کے عجائبات کو پیدا فرمایا اور وہی ذات انتہائی عالیشان طریقے سے اس کے نظام کو چلارہی ہے جیسے ہم ایک دانے یا گٹھلی کو تر زمین میں دباتے ہیں تو ایک مخصوص مدت کے بعد اس سے کچھ شاخیں نکلتی ہیں اوپر والی شاخ زمین سے باہر نکل کر ایک تناور درخت بن جاتی ہے اور نیچے والی شاخ اس درخت کی جڑیں بن جاتی ہیں اس درخت کی طرف دیکھیں تو اس کا تنا بھی لکڑی کا ہے اور جڑیں بھی لکڑی کی ہیں تنا اوپر کی طرف جاتا ہے اور جڑیں نیچے کی طرف جارہی ہیں اب اگر لکڑی کا طبعی تقاضا اوپر کی طرف جانا ہے تو جڑیں نیچے کیوں جاتی ہیں اور اگر اس کا تقاضا نیچے جانا ہے تو تنا اوپر کیوں جاتاہے ایک ہی لکڑی ہونے کے باوجود تنے کے اوپر جانے اور جڑوں کے نیچے جانے سے معلوم ہوا کہ لکڑی کا اپنا طبعی تقاضا کچھ نہیں ہے بلکہ درخت کی لکڑی پر کسی اور ذات کا تصرف ہے جس کی قدرت کامل ہے اسی نے لکڑی کے جس حصے کو چاہا اوپر اٹھا دیا اور جس حصے کو چاہا نیچے جھکا دیا۔( تفسیرکبیر الانعام تحت الایۃ: ۹۵ ۵ / ۷۱-۷۲ ملخصا) یونہی اس کائنات کے نظام کو دیکھیں تو نظر ائے گا کہ روزانہ سورج ایک مقررہ جہت سے طلوع ہوتا ہے اور ایک مقررہ جہت میں غروب ہو جاتا ہے دن کے بعد رات اتی اور رات کے بعد دن نکل اتا ہےہر سال اپنے اپنے موسموں میں کھیتیاں پروان چڑھتی ہیں پھول اپنے وقت پر کھلتے ہیں پھل اپنی مدت پر نکلتے ہیں پوری دنیا میں ایک خاص طریقے سے ہی انسان پیدا ہو رہے اور مخصوص مدت کے بعد مر رہے ہیں حشرات الارض سے لے کر درندوں تکچرندوں سے لے کر پرندوں تک ہر ایک کی ساخت اور تخلیق اس کے حال کے مطابق ہے اور ان کی ضرورت کے تمام اعضاء ان میں موجود ہیں ہر ایک کی غذا اوراسے حاصل کرنے کا طریقہ مختلف ہے اورہر علاقے میں رہنے والے کا مزاج اسی علاقے کے ماحول کے مطابق ہے تو کائنات کایہ مربوط اور حسین نظامحکیمانہ تدبیر اور ہر مخلوق کے حال کی رعایت دیکھ کر کوئی عقلمند ہرگز یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ کسی خالق اور انتظام فرمانے والے کے بغیر خود بخود عدم سے وجود میں ا گیا اور علم و حکمت کا یہ عجیب و غریب کارخانہ کسی چلانے والے کے بغیر چل رہاہے بلکہ اسے یہ اقرار کرنا پڑے گا کہ اس کائنات کا کوئی ایک خالق موجود ہے اور وہ کامل قدرت علم اور حکمت والا ہے اور اس عظمت و شان کا مالک اللہ تعالی کے سوا اور کوئی نہیں ۔سر دست یہاں اللہ تعالی کی قدرت اور اس کے موجود ہونے پر دلالت کرنے والی دو چیزیں ذکر کی ہیں ورنہ کائنات کے ذرے ذرے میں اللہ تعالی کی ذات اور اس کی صفات پر دلالت کرنے والی علامات اور نشانیاں موجود ہیں ۔