Surah Ar Rum Ayat 33 (30:33)
The Romans · Juz 21 · Makki
وَ اِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُمْ مُّنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَاۤ اَذَاقَهُمْ مِّنْهُ رَحْمَةً اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَ 33
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جب لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے رب کو ا س کی طرف رجوع کرتے ہوئے پکارتے ہیں پھرجب وہ انہیں اپنے پاس سے رحمت کا مزہ چکھاتا ہے تواس وقت ان میں سے ایک گروہ اپنے رب کا شریک ٹھہرانے لگتا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جب لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے رب کو پکارتے ہیں ا س کی طرف رجوع لاتے ہوئے پھر جب وہ انہیں اپنے پاس سے رحمت کا مزہ دیتا ہے جبھی ان میں سے ایک گروہ اپنے رب کا شریک ٹھہرانے لگتا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و اذا مس الناس ضر: اور جب لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے۔} اس ایت اور ا س کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب شرک کرنے والوں کو مرض قحط یا اس کے علاوہ اور کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب عزوجل کی طرف رجوع کرتے ہوئے اسے ہی پکارتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ بت ان کی مصیبت ٹال دینے کی قدرت نہیں رکھتے۔ پھر جب اللہ تعالی انہیں اس تکلیف سے خلاصی عنایت کرکے اور راحت عطا فرماکر اپنے پاس سے رحمت کا مزہ چکھاتا ہے تونتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس وقت ان میں سے ایک گروہ عبادت میں اپنے رب عزوجل کا شریک ٹھہرانے لگتا ہے اور ہمارے دئیے ہوئے مال اور رزق کی ناشکری کرنے لگتا ہے تو اے کافرو!دنیا کی نعمتوں سے چند روزفائدہ اٹھالو عنقریب تم جان لو گے کہ آخرت میں تمہارا کیا حال ہوتا ہے اور اس دنیا طلبی کا کیا نتیجہ نکلنے والا ہے۔(روح البیان الروم تحت الایۃ: ۳۳-۳۴ ۷ / ۳۷ مدارک الروم تحت الایۃ: ۳۳-۳۴ ص۹۰۹ خازن الروم تحت الایۃ: ۳۳-۳۴ ۳ / ۴۶۴ ملتقطا) اس سے معلوم ہوا کہ ارام میں اللہ تعالی کو بھول جانا اور تکلیف میں اسے یاد کرنا کفار کا طریقہ ہے لہذا مسلمانوں کو ا س سے بچنا چاہئے اور غمی خوشی ہر حال میں اللہ تعالی کو یاد کرتے رہنا چاہئے ۔ {ام انزلنا علیهم سلطنا: یا کیاہم نے ان پر کوئی دلیل اتاری ہے۔} یعنی کیا ہم نے مشرکوں پر کوئی حجت یا کوئی کتاب اتاری ہے کہ وہ انہیں ہمارے شریک بتا رہی ہے اور شرک کرنے کا حکم دیتی ہے ایسا ہر گز نہیں ہےان کے پاس اپنے شرک کی نہ کوئی حجت ہے نہ کوئی سند بلکہ وہ کسی بے سند و دلیل ہی ایسا کررہے ہیں ۔( خازن الروم تحت الایۃ: ۳۵ ۳ / ۴۶۴ جلالین الروم تحت الایۃ: ۳۵ ص۳۴۳ ملتقطا)