Surah Ar Rum Ayat 8 (30:8)
The Romans · Juz 21 · Makki
اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ- مَا خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّىؕ-وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ لَكٰفِرُوْنَ 8
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariکیا انہوں نے اپنے دلوں میں غوروفکر نہیں کیا کہ الله نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کو حق اور ایک مقررہ مدت کے ساتھ پیدا کیااور بیشک بہت سے لوگ اپنے رب سے ملنے کے منکر ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکیا انہوں نے اپنے جی میں نہ سوچا کہ الله نے پیدا نہ کئے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے مگر حق اور ایک مقرر میعاد سے اور بیشک بہت سے لوگ اپنے رب سے ملنے کا انکار رکھتے ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{او لم یتفكروا: کیا انہوں نے غورو فکر نہیں کیا۔} اس سے پہلی ایات میں کفار کے حوالے سے بیان ہوا کہ وہ اللہ تعالی اور قیامت کے دن کے منکر ہیں اور اب یہاں سے وہ اسباب بیان کئے جا ر ہے ہیں جن سے بندہ اللہ تعالی پر ایمان لانے کی طرف راغب ہو سکتا ہے اور اسے اخرت کے بارے میں علم بھی مل سکتا ہے چنانچہ ارشاد فرمایا کہ کفار مکہ کی نظر صرف دنیوی زندگی کی زیب و زینت پر ہے اور وہ اپنے دلوں میں غور و فکر نہیں کرتےاگر وہ ایسا کرتے تو جان لیتے کہ اللہ تعالی نے اسمانزمین اور جو مخلوقات ان کے درمیان ہےان سب کو بیکار اور باطل نہیں بنایا بلکہ ان میں بے شمار حکمتیں رکھی ہیں تاکہ لوگ ان میں غور و فکر کر کے انہیں بنانے والے کے وجود اور ا س کی وحدانیت پر استدلال کریں اور اس کی قدرت و صفات کو پہچانیں اور اللہ تعالی نے ان چیزوں کو ہمیشہ کے لئے نہیں بنایا بلکہ ان کے لئے ایک مدت معین کر دی ہے اور جب وہ مدت پوری ہوجائے گی تو یہ چیزیں فنا ہو جائیں گی اور وہ مدت قیامت قائم ہونے کا وقت ہے۔بیشک بہت سے لوگ اخرت سے غافل ہونے اور اخرت کی معرفت دلانے والی چیزوں میں غور وفکر نہ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے اعمال کے حسابان کی جزا اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کے منکر ہیں ۔( روح البیان الروم تحت الایۃ: ۸ ۷ / ۹-۱۰ مدارک الروم تحت الایۃ: ۸ ص۹۰۲-۹۰۳ ملتقطا)