Surah As Sajdah Ayat 24 (32:24)
The Prostration · Juz 21 · Makki
وَ جَعَلْنَا مِنْهُمْ اَىٕمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا۫ؕ-وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ 24
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاورجب بنی اسرائیل نے صبر کیاتو ہم نے ان میں سے کچھ لوگوں کو امام بنادیا جو ہمارے حکم سے رہنمائی کرتے تھے اور وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور ہم نے اُن میں سے کچھ امام بنائے کہ ہمارے حکم سے بتاتے جب کہ اُنہوں نے صبر کیا اور وہ ہماری آیتوں پر یقین لاتے تھے۔
Tafseer (Urdu)
{و جعلنا منهم اىمة: اور ہم نے ان میں سے کچھ امام بنائے۔} یعنی جب بنی اسرائیل نے اپنے دین پر اور دشمنوں کی طرف سے پہنچنے والی مصیبتوں پر صبر کیا تو ہم نے ان میں سے کچھ لوگوں کو امام بنادیا جو ہمارے حکم سے لوگوں کو خدا عزوجل کی طاعت اس کی فرمانبرداری اللہ تعالی کے دین اور اس کی شریعت کی پیروی اورتورات کے احکام کی تعمیل کے بارے میں بتاتے تھے اور وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے۔یہ امام بنی اسرائیل کے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام تھے یا انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی پیروی کرنے والے ۔(مدارک السجدۃ تحت الایۃ: ۲۴ ص۹۲۸ خازن السجدۃ تحت الایۃ: ۲۴ ۳ / ۴۷۹-۴۸۰ ملتقطا) صبر کا ثمرہ اور اس کی فضیلت: اس ایت سے معلوم ہوا کہ صبر کا ثمرہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے بعض اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ صبر کرنے والے کو امامت اور پیشوائی نصیب ہوجاتی ہے۔ صبر کے بارے میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’ بندے کو صبر سے زیادہ کوئی بھلائی عطا نہیں کی گئی۔(مستدرک کتاب التفسیر تفسیر سورۃ السجدۃ ما رزق عبد خیرا لہ۔۔۔ الخ ۳ / ۱۸۷ الحدیث: ۳۶۰۵) لہذا جس پر کوئی افت یا مصیبت ائی ہو یا وہ کسی پریشانی کا شکار ہو تو اسے چاہئے کہ اس پر صبر کرے اور اللہ تعالی کی رضا پر راضی رہے۔ {ان ربك هو یفصل بینهم: بیشک تمہارا رب ان میں فیصلہ کردے گا۔} یعنی اللہ تعالی قیامت کے دن انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام میں اور ان کی امتوں میں یا مومنین اورمشرکین کے درمیان دینی امور میں سے اس بات کا فیصلہ کردے گاجس میں وہ اختلاف کرتے تھے اور حق و باطل والوں کو جدا جدا ممتاز کردے گا۔(مدارک السجدۃ تحت الایۃ: ۲۵ ص۹۲۸ جلالین السجدۃ تحت الایۃ: ۲۵ ص۳۵۰ ملتقطا)