Surah As Sajdah Ayat 3 (32:3)
The Prostration · Juz 21 · Makki
اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُۚ-بَلْ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ 3
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariکیا وہ یہ کہتے ہیں کہ اِس نبی نے یہ قرآن خود بنالیا ہے؟ بلکہ یہی تمہارے رب کی طرف سے حق ہے تاکہ تم ان لوگوں کو ڈرسناؤ جن کے پاس تم سے پہلے کوئی ڈر سنانے والا نہیں آیا اس امید پر (ڈراؤ) کہ وہ ہدایت پائیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکیا کہتے ہیں اُن کی بنائی ہوئی ہے بلکہ وہی حق ہے تمہارے رب کی طرف سے کہ تم ڈراؤ ایسے لوگوں کو جن کے پاس تم سے پہلے کوئی ڈر سنانے والا نہ آیا اس امید پر کہ وہ راہ پائیں ۔
Tafseer (Urdu)
{ام یقولون افترىه: کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ اس نبی نے یہ قران خود بنالیا ہے} جب حضرت جبریل علیہ السلام قران پاک کو لے کر نازل ہوئے تو کفار قریش نے ا س کا انکار کر دیا اور کہنے لگے کہ یہ مقدس کتاب رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اپنے پاس سے بنا لی ہے اس پر اللہ تعالی نے ارشاد فرمایاکہ کیا مشرکین یہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے یہ قران خود بنالیا ہےایسا ہرگز نہیں بلکہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم یہی قران تمہارے رب عزوجل کی طرف سے حق ہے اور یہ ا س لئے نازل ہو ا تاکہ اپ ان لوگوں کو جن کے پاس اپ سے پہلے کوئی ڈر سنانے والا نہیں آیااس امید پر ( اللہ تعالی کے عذاب سے) ڈرائیں کہ وہ گمراہی سے ہدایت پاجائیں ۔( تفسیر سمرقندی السجدۃ تحت الایۃ: ۳ ۳ / ۲۷ ملخصا) اس ایت میں جو بیان ہوا کہ ’’جن کے پاس تم سے پہلے کوئی ڈر سنانے والا نہیں آیا‘‘ان لوگوں سے مراد زمانہ فترت کے لوگ ہیں ۔اہل عرب کے لئے اس زمانے کی مدت حضرت اسماعیل علیہ الصلوۃ والسلام سے لے کر رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تک تھی اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں کے لئے وہ زمانہ حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد سے حضورسید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی بعثت تک تھا کہ اس زمانہ میں اللہ تعالی کی طرف سے کوئی رسول نہیں آیا۔ حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد دنیا میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے علاوہ کسی نبی کے تشریف نہ لانے کی صراحت اس حدیث پاک میں بھی موجود ہےچنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےحضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’میں دنیا اور اخرت میں حضرت عیسی بن مریم علیہ الصلوۃ والسلام کے سب سے زیادہ نزدیک ہوں ۔صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کس طرحارشاد فرمایا :سارے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام علاتی بھائی ہیں جن کی مائیں (یعنی فروعی احکام) الگ الگ ہیں اور ان کا دین (یعنی اصولی عقائد ) ایک ہے اور میرے اور حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے درمیان کوئی نبی نہیں۔( مسلم کتاب الفضائل باب فضائل عیسی علیہ السلام ص۱۲۸۷ الحدیث: ۱۴۵(۲۳۶۵))