Surah Al Ahzab Ayat 10 (33:10)
The Combined Forces · Juz 21 · Madani
اِذْ جَآءُوْكُمْ مِّنْ فَوْقِكُمْ وَ مِنْ اَسْفَلَ مِنْكُمْ وَ اِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَ بَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِرَ وَ تَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ الظُّنُوْنَا ﭤ 10
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariجب کافر تم پرتمہارے اوپر سے اور تمہارے نیچے سے آئے اور جب آنکھیں ٹھٹک کر رہ گئیں اور دل گلوں کے پاس آگئے اور تم الله پر طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanجب کافر تم پر آئے تمہارے اوپر سے اور تمہارے نیچے سے اور جبکہ ٹھٹک کر رہ گئیں نگاہیں اور دل گلوں کے پاس آگئے اور تم الله پر طرح طرح کے گمان کرنے لگے ۔
Tafseer (Urdu)
{اذ جآءوكم: جب کافر تم پر آئے۔} غزوہ احزاب کے موقع پرجب اللہ تعالی نے ایمان والوں پر احسان فرمایااس وقت صورت حال یہ تھی کہ مدینہ منورہ پر حملہ اور ہونے والے لشکرمیں سے وادی کے اوپر کی طرف مشرق سے اسد اور غطفان قبیلے کے لوگ مالک بن عوف نصری اورعیینہ بن حصن فزاری کی سرکردگی میں ایک ہزار کی جمعیت لے کر ائے اور ان کے ساتھ طلیحہ بن خویلد اسدی بنی اسد کی جمعیت لے کر اور حیی بن اخطب یہودی بنی قریظہ کی جمعیت لے کر ایا اور وادی کی نچلی جانب مغرب سے قریش اور کنانہ قبیلے کے لوگ ابو سفیان بن حرب کی سرکردگی میں ائے۔ اس وقت لوگوں کی انکھیں ٹھٹک کر رہ گئیں اور رعب و ہیبت کی شدت سے حیرت میں آ گئیں اور خوف و اضطراب اس انتہاء کو پہنچ گیا کہ دل گویا کہ گلوں کے پاس آگئے اورمنافق تویہ گمان کرنے لگے کہ اب مسلمانوں کا نام و نشان باقی نہ رہے گا کیونکہ کفار کی اتنی بڑی جمعیت سب کو فنا کر ڈالے گی اور مسلمانوں کواللہ تعالی کی طرف سے مدد آنے اور اپنے فتح یاب ہونے کی امید تھی۔( مدارک الاحزاب تحت الایۃ: ۱۰ ص۹۳۴ خازن الاحزاب تحت الایۃ: ۱۰ ۳ / ۴۸۹ ملتقطا)