Surah Al Ahzab Ayat 22 (33:22)
The Combined Forces · Juz 21 · Madani
وَ لَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَۙ-قَالُوْا هٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ صَدَقَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ٘-وَ مَا زَادَهُمْ اِلَّاۤ اِیْمَانًا وَّ تَسْلِیْمًاﭤ 22
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جب مسلمانوں نے لشکر دیکھے تو کہنے لگے:یہ وہ ہے جس کا ہمیں الله اور اس کے رسول نے وعدہ دیا تھا اور الله اور اس کے رسول نے سچ فرمایاتھااور اس بات نے ان کے ایمان اور الله کی رضا پرراضی ہونے کو اور زیادہ کردیا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جب مسلمانوں نے کافروں کے لشکر دیکھے بولے یہ ہے وہ جو ہمیں وعدہ دیا تھا الله اور اس کے رسول نے اور سچ فرمایا الله اور اس کے رسول نے اور اس سے انہیں نہ بڑھا مگر ایمان اور الله کی رضا پر راضی ہونا۔
Tafseer (Urdu)
{و لما را المؤمنون الاحزاب: اور جب مسلمانوں نے لشکر دیکھے۔} ا س سے پہلی ایات میں منافقوں کی بزدلی بے ہمتی اورحیلے بہانوں کابیان کیاگیا اور اب یہاں سے باہمت مومنوں کا حال بیان کیاجارہاہے چنانچہ اس ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب غزوہ خندق کے دن مسلمانوں نے کفار کے لشکر دیکھے تو کہنے لگے:یہ وہ ہے جس کا ہمیں اللہ تعالیاور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے وعدہ دیا تھاکہ تمہیں شدت اور مصیبت پہنچے گی اور تم آزمائش میں ڈالے جاؤ گے اور پہلوں کی طرح تم پر سختیاں آئیں گی اور لشکر جمع ہو ہو کر تم پر ٹوٹیں گے لیکن اخر میں تم ہی غالب او گے اور تمہاری مدد فرمائی جائے گی جیسا کہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ام حسبتم ان تدخلوا الجنة و لما یاتكم مثل الذین خلوا من قبلكم-مستهم الباسآء و الضرآء و زلزلوا حتى یقول الرسول و الذین امنوا معه متى نصر الله-الا ان نصر الله قریب‘‘(بقرہ:۲۱۴) ترجمہ کنزالعرفان: کیا تمہارا یہ گمان ہے کہ جنت میں داخل ہوجاؤ گے حالانکہ ابھی تم پرپہلے لوگوں جیسی حالت نہ آئی۔ انہیں سختی اور شدت پہنچی اور انہیں زور سے ہلا ڈالا گیا یہاں تک کہ رسول اور اس کے ساتھ ایمان والے کہہ اٹھے: اللہ کی مدد کب آئے گی سن لو! بیشک اللہ کی مدد قریب ہے۔ اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ تعالی عنہم سے ارشاد فرمایا: ’’ ائندہ نو یا دس راتوں میں لشکر تمہاری طرف آنے والے ہیں ۔ جب انہوں نے دیکھا کہ اس مدت کے پورا ہونے پر لشکرآ گئے تو کہا: یہ ہے وہ جس کا ہمیں اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے وعدہ دیا تھا۔‘‘ اور اس کے تمام وعدے سچے ہیں سب یقینی طور پر واقع ہوں گے ہماری مدد بھی ہو گی ہمیں غلبہ بھی دیا جائے گا اور مکہ مکرمہ روم اور فارس بھی ہمارے ہاتھوں فتح ہوں گے اور ان لشکروں کے انے نے ان کے اللہ تعالی کے وعدوں پر ایمان اور اللہ تعالی کی رضا پرراضی ہونے میں اور اضافہ کردیا۔( مدارک الاحزاب تحت الایۃ: ۲۲ ص۹۳۷ خازن الاحزاب تحت الایۃ: ۲۲ ۳ / ۴۹۲ ملتقطا)