Surah Al Ahzab Ayat 23 (33:23)
The Combined Forces · Juz 21 · Madani
مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِۚ-فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ ﳲ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًا 23
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariمسلمانوں میں کچھ وہ مرد ہیں جنہوں نے اس عہد کو سچا کردکھایا جوانہوں نےاللہ سے کیا تھا تو ان میں کوئی اپنی منت پوری کرچکا اور کوئی ابھی انتظار کر رہا ہے اور وہ بالکل نہ بدلے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanمسلمانوں میں کچھ وہ مرد ہیں جنہوں نے سچا کردیا جو عہد الله سے کیا تھا تو ان میں کوئی اپنی منت پوری کرچکا اور کوئی راہ دیکھ رہا ہے اور وہ ذرا نہ بدلے۔
Tafseer (Urdu)
{من المؤمنین رجال صدقوا: مسلمانوں میں کچھ وہ مرد ہیں جنہوں نے سچا کردکھایا۔} حضرت عثمان غنی حضرت طلحہ حضرت سعید بن زید حضرت حمزہ اور حضرت مصعب اوردیگر چندصحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے نذر مانی تھی کہ وہ جب رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ساتھ جہاد میں شرکت کا موقع پائیں گے تو ثابت قدم رہیں گے یہاں تک کہ شہید ہو جائیں ۔ ان کے بارے میں اس آیت میں ارشاد ہوا کہ انہو ں نے اپنا وعدہ سچا کر دیا اور ان میں سے کوئی ثابت قدمی کے ساتھ جہاد کرتا رہایہاں تک کہ شہید ہو گیا جیسے کہ حضرت حمزہ اور حضرت مصعب رضی اللہ تعالی عنہما اور کوئی ابھی (جہاد پر ثابت قدمی کے باوجود) شہادت کا انتظار کر رہا ہے جیسے کہ حضرت عثمان اور حضرت طلحہ رضی اللہ تعالی عنہما اور یہ حضرات بالکل نہ بدلے بلکہ شہید ہو جانے والے بھی اور شہادت کا انتظار کرنے والے بھی دونوں اپنے عہد پر ویسے ہی ثابت قدم رہے جبکہ منافق اور دل کے بیمار لوگ اپنے عہد پر قائم نہ رہے۔( مدارک الاحزاب تحت الایۃ: ۲۳ ص۹۳۷-۹۳۸) حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :میرے چچا حضرت انس بن نضر رضی اللہ تعالی عنہ غزوہ بدر کے موقع پر موجود نہ تھے یہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوئیـ: یا رسول اللہ !صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ نے مشرکین کے ساتھ جو پہلی جنگ لڑی تھی میں ا س میں موجود نہ تھااگر اللہ تعالی نے مشرکین سے جنگ ازمائی کا پھر موقع دیا تواللہ تعالی اپ کو ضرور دکھا دے گا کہ میں کیا کرتا ہوں ۔جب احد کی معرکہ ارائی کا دن ایا اور بعض مسلمان جنگ کے میدان میں ٹھہر نہ سکے توانہوں نےاللہ تعالی کی بارگاہ میں دعا کے لئے ہاتھ بلند کئے اور عرض کی: یا اللہ! عزوجل میں اس حرکت سے علیحدگی کا اظہار کرتا ہوں جو ہمارے بعض ساتھیوں سے سرزد ہوئی اور میں اس فعل سے بیزار ہوں جس کے یہ مشرکین مرتکب ہوئے ہیں ۔پھر انہوں نے مشرکین کی جانب پیش قدمی فرمائی تو راستے میں حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالی عنہ سے ملاقات ہوئی اپ نے ان سے فرمایا: اے سعد بن معاذ! رضی اللہ تعالی عنہ نضر کے رب عزوجل کی قسم!مجھے احد کی اس جانب سے جنت کی خوشبو ا رہی ہے۔ حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ بارگاہ رسالت میں ان کا حال یوں عرض کیا کرتے تھے کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جو جوانمردی حضرت انس بن نضر رضی اللہ تعالی عنہ نے دکھائی وہ میری بساط سے باہر ہے۔حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں : جب (جنگ کے بعد) ہم نے حضرت انس بن نضر رضی اللہ تعالی عنہ کو جام شہادت نوش کئے ہوئے پایا تو ان کے جسم پر 80سے زیادہ تلواروں تیروں اور نیزوں کے زخم تھے۔ مشرکین نے ان کے کان اور ناک وغیرہ کاٹ لئے تھے جس کے باعث انہیں کوئی پہچان نہ سکا البتہ صرف ان کی بہن نے ان کی انگلیوں کے پوروں سے پہچانا۔ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :ہمارا خیال اور گمان ہے کہ یہ ایت ’’من المؤمنین رجال صدقوا ما عاهدوا الله علیه‘‘ ان کے بارے میں اور ان جیسے حضرات ہی کے متعلق نازل ہوئی ہے۔( بخاری کتاب الجہاد والسیر باب قول اللہ تعالی: من المومنین رجال صدقوا۔۔۔ الخ ۲ / ۲۵۵ الحدیث: ۲۸۰۵) اورحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں : جب نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم احد سے واپس تشریف لائے تو حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالی عنہ کے پا س سے گزرے جوکہ شہید ہو کر راستے میں پڑے ہوئے تھے۔ حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ان کے پاس کھڑے ہو کر دعا فرمائی اور ا س کے بعد یہ ایت تلاوت فرمائی: ’’من المؤمنین رجال صدقوا ما عاهدوا الله علیه-فمنهم من قضى نحبه و منهم من ینتظر ﳲ و ما بدلوا تبدیلا‘‘(احزاب:۲۳) ترجمہ کنزالعرفان: مسلمانوں میں کچھ وہ مرد ہیں جنہوں نے اس عہد کو سچا کردکھایا جوانہوں نےاللہ سے کیا تھا تو ان میں کوئی اپنی منت پوری کرچکا اور کوئی ابھی انتظار کر رہا ہےاور وہ بالکل نہ بدلے۔ پھر اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’میں گواہی دیتا ہو ں کہ یہ لوگ قیامت کے دن اللہ تعالی کے نزدیک شہید ہیں تو تم ان کے پاس ایا کرو اور ان کی زیارت کیا کرو اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہےقیامت تک جو شخص بھی ان کو سلام کرے گا یہ ا س کے سلام کا جواب دیں گے۔( مستدرک کتاب التفسیر زیارۃ قبور الشہداء ورد السلام منہم الی یوم القیامۃ ۲ / ۶۲۹ الحدیث: ۳۰۳۱)