Surah Al Ahzab Ayat 24 (33:24)
The Combined Forces · Juz 21 · Madani
لِّیَجْزِیَ اللّٰهُ الصّٰدِقِیْنَ بِصِدْقِهِمْ وَ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ اِنْ شَآءَ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا 24
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتاکہ الله سچوں کو ان کے سچ کا صلہ دے اور منافقوں کو عذاب دے اگر چاہے یا انہیں توبہ کی توفیق دے۔ بیشک الله بخشنے والا مہربان ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتاکہ الله سچوں کو ان کے سچ کا صلہ دے اور منافقوں کو عذاب کرے اگر چاہے یا انہیں توبہ دے بیشک الله بخشنے والا مہربان ہے۔
Tafseer (Urdu)
{ لیجزی الله الصدقین بصدقهم: تاکہ اللہ سچوں کو ان کے سچ کا صلہ دے۔} یعنی غزوہ احزاب میں جو امور واقع ہوئے جیسے مخلص ایمان والوں نے اخلاص کے ساتھ عمل کئے اور منافقوں نے نفاق سے متعلق اپنی روایت کو برقرار رکھایہ سب اس لئے ہوا تاکہ اللہ تعالی ہر ایک کو اس کے اعمال کی جزا دے ایمان والوں کو دنیا میں اقتدار عطافرمائے اور اسلام کے دشمنوں کے خلاف انہیں فتح نصیب کرے جبکہ اخرت میں انہیں اچھا ثواب دے اور جنت کی دائمی نعمتوں میں ہمیشہ کے لئے رکھے اور منافقوں سے جو اقوال اور افعال سرزد ہوئے ہیں اس پر اگر چاہے تو انہیں عذاب دے یا ان میں سے جو لوگ توبہ کر لیں ان کی توبہ قبول فرمائے۔ بے شک اللہ تعالی توبہ کرنے والے کے گناہوں کو چھپانے والا اور اسے جنت و ثواب دے کر اس پر رحم فرمانے والا ہے۔( ابوسعود الاحزاب تحت الایۃ: ۲۴ ۴ / ۳۱۶ روح البیان الاحزاب تحت الایۃ: ۲۴ ۷ / ۱۶۰ ملتقطا) یاد رہے کہ جو منافق دنیا میں اپنے نفاق سے سچی توبہ کر لیں گے ان پر اللہ تعالی اپنے فضل و رحمت سے اخرت میں عذاب نہ فرمائے گا اور جو اپنے کفر و نفاق سے توبہ کئے بغیر مر گیا تو اسے اخرت میں عذاب ضرور ہو گا۔ راہ خدا میں قربانیاں دینے والوں پر اللہ تعالی کا فضل و کرم: اس ایت سے معلوم ہو اکہ اخلاص کے ساتھ ایمان لانے والےاللہ تعالی کی راہ میں جو قربانیاں دیتے ہیں اور اس راہ میں انے والی سختیوں تکلیفوں اور مصیبتوں کو برداشت کرتے ہیں اللہ تعالی انہیں ضائع نہیں فرماتا بلکہ اپنی شان کریمی سے ان ایمان والوں کو دنیامیں بھی بہترین صلہ عطا فرماتا ہے اور اخرت میں بھی اعلی ترین اجرو ثواب عطا فر مائے گا۔ان کی قربانیوں کا جو صلہ دنیا میں عطا کیا گیا وہ اج ہم اپنی انکھوں سے بھی دیکھ رہے ہیں کہ سینکڑوں برس گزر جانے کے باوجود بھی دنیا انہیں خیر سے یا د کر رہی ہے زمانہ ہر چیز کو مٹا دیتا ہے مگر ان کا ذکر خیر اج تک نہ مٹ سکا اور ان شاء اللہ قیامت تک نہ مٹ سکے گا۔