Surah Al Ahzab Ayat 25 (33:25)
The Combined Forces · Juz 21 · Madani
وَ رَدَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِغَیْظِهِمْ لَمْ یَنَالُوْا خَیْرًاؕ-وَ كَفَى اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ الْقِتَالَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ قَوِیًّا عَزِیْزًا 25
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور الله نے کافروں کو ان کے دلوں کی جلن کے ساتھ واپس لوٹادیا، انہیں کچھ بھی بھلائی نہ ملی اور الله مسلمانوں کیلئے لڑائی میں کافی ہوگیا اور الله قوت والا، عزت والا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور الله نے کافروں کو ان کے دلوں کی جلن کے ساتھ پلٹایا کہ کچھ بھلا نہ پایا اور الله نے مسلمانوں کو لڑائی کی کفایت دی اور الله زبردست عزت والا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و رد الله الذین كفروا بغیظهم: اور اللہ نے کافروں کو ان کے دلوں کی جلن کے ساتھ واپس لوٹادیا۔} یعنی غزوہ احزاب میں جو واقعات رو نما ہوئے ان میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالی نے قریش اور غطفان وغیرہ کے لشکروں کو ان کے دلوں کی جلن اور حسرت کے ساتھ واپس لوٹادیا اور ان کا حال یہ ہوا کہ جن ناپاک ارادوں کے ساتھ ان لوگوں نے مدینہ منورہ پر چڑھائی کی تھی ان میں سے کوئی بھی پورا نہ ہوا اور وہ اپنے مقاصد میں ناکام و نامراد ہو کر واپس لوٹ گئے اور اللہ تعالی مسلمانوں کیلئے لڑائی میں کافی ہوگیا چنانچہ مسلمانوں کو کافروں کے خلاف باقاعدہ لڑنا نہیں پڑا اور دشمن نصرت الہی اور ہوا کی سختیوں سے بھاگ نکلے اور اللہ تعالی کی شان یہ ہے کہ وہ اپنے ہر ارادے کو ظاہر فرمانے پر قوت رکھنے والا اور ہر چیز پر غالب اور عزت والا ہے۔( روح البیان الاحزاب تحت الایۃ: ۲۵ ۷ / ۱۶۰-۱۶۱ خازن الاحزاب تحت الایۃ: ۲۵ ۳ / ۴۹۳ ملتقطا) اللہ تعالی کی قدر ت و شان: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اس اللہ تعالی کے سواکوئی عبادت کامستحق نہیں جوواحد ہے جس کالشکر غالب ہے جس نے اپنے بندے کی مددکی اور تنہا کافروں کی جماعتوں کوشکست دی اس کے سوا کوئی چیز (باقی) نہیں ہے۔( بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ الخندق وہی الاحزاب ۳ / ۵۵ الحدیث: ۴۱۱۴) حضرت عبد اللہ بن اوفی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے غزوہ احزاب کے دن کفارکے لشکروں کے خلاف یوں دعا فرمائی :اے اللہ! عزوجل کتاب کو نازل کرنے والے جلد حساب کرنے والے اےاللہ! عزوجل ان لشکروں کوشکست دے اوران کے قدموں کو ڈگمگادے۔( بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ الخندق وہی الاحزاب ۳ / ۵۵ الحدیث: ۴۱۱۵) اس سے معلوم ہوا کہ اگر رب عزوجل چاہے تو مسلمانوں کو ہوا کے ذریعے سے اور اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو مکڑی کے کمزور جالے کے وسیلے سے دشمن سے بچا لے اور چاہے تو فرعون کو مضبوط قلعہ سے نکال کر غرق کردے اورابابیل جیسے چھوٹے سے پرندوں سے ہاتھیوں کوہلاک فرمادے۔