Surah Al Ahzab Ayat 26 (33:26)
The Combined Forces · Juz 21 · Madani
وَ اَنْزَلَ الَّذِیْنَ ظَاهَرُوْهُمْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ صَیَاصِیْهِمْ وَ قَذَفَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ وَ تَاْسِرُوْنَ فَرِیْقًا 26
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جن اہل کتاب نے اُن (مشرکوں ) کی مدد کی تھی ( الله نے) انہیں ان کے قلعوں سے اتارا اور ان کے دلوں میں رُعب ڈال دیا، ان میں ایک گروہ کو تم قتل کرتے ہو اور ایک گروہ کو قیدکرتے ہو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جن اہلِ کتاب نے ان کی مدد کی تھی انہیں ان کے قلعوں سے اتارا اور ان کے دلوں میں رُعب ڈالا ان میں ایک گروہ کو تم قتل کرتے ہو اور ایک گروہ کو قید۔
Tafseer (Urdu)
{و انزل الذین ظاهروهم من اهل الكتب: اور جن اہل کتاب نے ان کی مدد کی تھی انہیں اتارا۔} اس سے پہلی ایات میں غزوہ احزاب کے احوال بیان ہوئے اور اب یہاں سے بنو قریظہ کے یہودیوں کے ساتھ ہونے والی جنگ کے حالات بیان کئے جا رہے ہیں جنہوں نے رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے مقابلے میں قریش اور غطفان وغیرہ کے لشکروں کی مدد کی تھی۔ غزوہ بنو قریظہ کے مختصر احوال: غزوہ بنو قریظہ غزوہ خندق کا ایک قسم کا تتمہ ہے۔ یہ غزوہ سن 4یا5ہجری ماہ ذی قعدہ کے اخری دنوں میں واقع ہوا۔ یہاں اس کے کچھ احوال پر مشتمل چار احادیث ملاحظہ ہوں : (1)…حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں :جب رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جنگ خندق سے واپس لوٹے تو اپ نے ہتھیار اتار دئیے اور غسل فرما لیا۔ فورا حضرت جبریل علیہ السلام بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور ان کاسر گرد و غبار سے اٹا ہوا تھاانہوں نے عرض کی :اپ نے ہتھیار اتار دئیے حالانکہ میں نے ابھی نہیں اتارے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اب کدھر کا ارادہ ہے حضرت جبریل علیہ السلام نے عرض کی :ادھر کااور بنو قریظہ کی طرف اشارہ کیا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں ـ: رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فورا ہی بنو قریظہ کی طرف تشریف لے گئے۔( بخاری کتاب الجہاد والسیر باب الغسل بعد الحرب والغبار ۲ / ۲۵۸ الحدیث: ۲۸۱۳) (2)…حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں :نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے جنگ احزاب کے دن ارشاد فرمایا: ’’کوئی عصر کی نماز نہ پڑھے مگر بنی قریظہ میں جا کر۔ چنانچہ بعض حضرات کو راستے میں عصر کا وقت ہو گیا مگر وہ کہنے لگے کہ ہم منزل مقصود پر پہنچ کر ہی نماز پڑھیں گے اور بعض حضرات نے راستے میں ہی نماز پڑھ لی اور فرمایا کہ ہمیں نماز پڑھنے سے تو منع نہیں فرمایا گیا۔جب نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے سامنے اس صورت حال کا ذکر کیا گیا تو اپ نے کسی فریق پر بھی ناراضی کا اظہار نہیں فرمایا۔( بخاری کتاب المغازی باب مرجع النبی صلی اللہ علیہ وسلم من الاحزاب۔۔۔ الخ ۳ / ۵۶ الحدیث: ۴۱۱۹) (3)… اورصحیح مسلم کی روایت میں ہے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں :جب ہم غزوہ احزاب سے واپس لوٹے تورسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ہمیں یہ ندا فرمائی :بنو قریظہ میں پہنچنے سے پہلے کوئی شخص ظہر کی نماز نہ پڑھے۔ بعض صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے وقت ختم ہونے کے خوف سے بنو قریظہ پہنچنے سے پہلے نماز پڑھ لی اور دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے کہا:ہم اسی جگہ نماز پڑھیں گے جہاں نماز پڑھنے کا حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے اگرچہ نماز قضا ہو جائے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں : سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فریقین میں کسی کو ملامت نہیں کی۔( مسلم کتاب الجہاد والسیر باب المبادرۃ بالغزو۔۔۔ الخ ص۹۷۴ الحدیث: ۶۹(۱۷۷۰)) مذکورہ بالا دونوں روایتوں میں تطبیق اس طرح ہے کہ یہ واقعہ ظہر کی نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد پیش ایا تھا بعض صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے مدینہ منورہ میں ظہر کی نماز پڑھ لی تھی اور بعض نے ظہر کی نمازنہیں پڑھی تھیتو جنہوں نے ظہر کی نماز نہیں پڑھی تھی ان سے اپ نے فرمایا: تم بنو قریظہ میں جا کر ظہر کی نما زپڑھنا اور جنہوں نے ظہر کی نماز پڑھ لی تھی ان سے اپ نے فرمایا:تم بنو قریظہ میں پہنچ کر عصر کی نماز پڑھنا۔( شرح نووی علی المسلم کتاب الجہاد والسیر باب المبادرۃ بالغزو۔۔۔ الخ۶ / ۹۸ الجزء الثانی عشر) (4)… حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں :بنو قریظہ حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ کو منصف بنائے جانے پر قلعے سے نیچے اتر ائے کیونکہ فریقین نے حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ کو منصف تسلیم کر لیا تھا۔حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا:ان کا یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ ان کے جو مرد لڑنے کے قابل ہیں انہیں قتل کر دیا جائے ان کی عورتوں اور بچوں کو لونڈی غلام بنا لیا جائے اور ان کے مال کو مسلمانوں پر تقسیم کر دیا جائے۔( بخاری کتاب المغازی باب مرجع النبی صلی اللہ علیہ وسلم من الاحزاب۔۔۔ الخ ۳ / ۵۶ الحدیث: ۴۱۲۲) حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ کے فیصلہ فرمانے کے بعدمدینہ منورہ کے بازار میں خندق کھودی گئی اور وہاں لاکر ان سب یہودیوں کی گردنیں ماری گئیں ۔ ان لوگوں میں قبیلہ بنونضیر کا سردار حیی بن اخطب اور بنو قریظہ کا سردار کعب بن اسد بھی تھا اور یہ لوگ چھ سو یا سات سو جو ان تھے جو گردنیں کاٹ کر خندق میں ڈال دیئے گئے۔( جمل الاحزاب تحت الایۃ: ۲۶ ۶ / ۱۶۴-۱۶۵ ملخصا) مجتہدین میں اختلاف ہونے کے باوجود وہ گناہگار نہیں : مذکورہ بالا حدیث پاک نمبر2اور3میں نماز کے مسئلے پر صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم میں ہونے والے جساختلاف کا ذکر ہوااس کی وجہ شارحین نے یہ بیان کی ہے کہ بعض صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے اس ممانعت کو حقیقت پر محمول کیا اور اسے اس ممانعت پر ترجیح دی جس میں نماز کو اس کے وقت سے موخر کرنے سے منع کیا گیا تھااسی لئے انہوں نے وقت نکل جانے کی پرواہ نہ کی اور بعض صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے اس ممانعت کو حقیقت پر محمول نہیں کیا بلکہ مقصود پر نظر کی کہ اس کا مقصد بنو قریظہ میں جلد پہنچنا ہے اس لئے انہوں نے راستے میں نماز ادا کر لی۔اس سے جمہور علماء کرام نے یہ استدلال کیا ہے کہ مجتہد گناہگار نہیں ہو گا اور اگر کسی ایک مسئلے میں دو مجتہدین کا اختلاف ہو تو دونوں میں سے کسی کو بھی ملامت نہیں کی جائے گی (کیونکہ یہاں گناہ کا پہلو نہیں اور) اگر گناہ کا پہلو ہوتا تو پھر گناہ کی وجہ سے ضرور ملامت کی جاتی۔( فتح الباریکتاب المغازی باب مرجع النبی صلی اللہ علیہ وسلم من الاحزاب۔۔۔الخ ۸ / ۳۴۹ تحت الحدیث: ۴۱۱۹)