Surah Al Ahzab Ayat 38 (33:38)
The Combined Forces · Juz 22 · Madani
مَا كَانَ عَلَى النَّبِیِّ مِنْ حَرَجٍ فِیْمَا فَرَضَ اللّٰهُ لَهٗؕ-سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُؕ-وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ قَدَرًا مَّقْدُوْرَاﰳ٘ 38
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariنبی پر اس بات میں کوئی حرج نہیں جو اللہ نے اس کے لیے مقرر فرمائی ۔ اللہ کا دستور چلا آرہا ہے ان میں جو پہلے گزرچکے،اور اللہ کا ہرکام مقرر کی ہوئی تقدیر ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanنبی پر کوئی حرج نہیں اس بات میں جو اللہ نے اس کے لیے مقرر فرمائی اللہ کا دستور چلا آرہا ہے ان میں جو پہلے گزر چکے اور اللہ کا کام مقرر تقدیر ہے۔
Tafseer (Urdu)
{ما كان على النبی من حرج فیما فرض الله له: نبی پر اس بات میں کوئی حرج نہیں جو اللہ نے اس کے لیے مقرر فرمائی۔} ارشاد فرمایاکہ اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے لئے جو حلال فرمایا اور انہیں منہ بولے بیٹے زید بن حارثہ کی طلاق یافتہ بیوی سے نکاح کرنے کا جو حکم دیا اس پر عمل کرنے میں میرے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر کوئی حرج نہیں اور زیادہ شادیاں کرنا کوئی انوکھی بات نہیں بلکہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے پہلے تشریف لانے والے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام میں بھی اللہ تعالی کا یہ دستور رہا ہے کہ ان کے نکاح کا معاملہ اللہ تعالی نے اپنے اختیار میں رکھا اور انہیں نکاح کے معاملے میں امتیوں سے زیادہ وسعت عطا فرمائی اور اس سلسلے میں انہیں خاص احکام دئیے ہیں ۔(ابن کثیر الاحزاب تحت الایۃ: ۳۸ ۶ / ۳۸۰ روح البیان الاحزاب تحت الایۃ: ۳۸ ۷ / ۱۸۲ ملتقطا) حضور پر نورصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا زیادہ شادیاں فرمانا منہاج نبوت کے عین مطابق تھا: اس ایت میں اللہ تعالی نے تمام امت کو یہ بتا دیا کہ ا س نے پچھلے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی طرح اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر بھی نکاح کے معاملے میں وسعت فرمائی اور انہیں کثیر عورتوں کے ساتھ نکاح کرنے کی اجازت عطا فرمائی ہے ۔اس سے معلوم ہوا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا کثیر خواتین سے شادیاں فرمانا اللہ تعالی کی دی ہوئی خاص اجازت سے تھا اور اپ کا یہ عمل انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے دستور کے برخلاف نہیں بلکہ اس کے عین مطابق تھا کیونکہ اپ سے پہلے تشریف لانے والے متعدد انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام نے بھی ایک سے زیادہ شادیاں کی تھیں قران مجید کے علاوہ بائبل میں بھی ا س کا ذکر موجود ہے چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے تین شادیاں فرمائیں اپ کی پہلی بیوی کے بارے بائبل میں ہے ’’اور ابرام سے ہاجرہ کے ایک بیٹاہوا اور ابرام نے اپنے اس بیٹے کا نام جو ہاجرہ سے پیدا ہوا اسمعیل رکھا اور جب ابرام سے ہاجرہ کے اسمعیل پیدا ہوا تب ابرام چھیاسی برس کا تھا۔(بائبل پیدایش باب۱۶ ایت نمبر: ۱۵-۱۶ ص۱۶) اپ علیہ الصلوۃ والسلام کی دوسری بیوی سے اولاد کے بارے بائبل میں ہے ’’موسم بہار میں معین وقت پر میں تیرے پاس پھر اوں گا اور سارہ کے بیٹا ہو گا۔(بائبل پیدایش باب۱۸ ایت نمبر: ۱۴ ص۱۷)اپ کی تیسری بیوی اور ان سے ہونے والی اولاد کے بارے بائبل میں ہے ’’اور ابرہام نے پھر ایک اور بیوی کی جس کا نام قطورہ تھا اور اس سے زمران اور یقسان اور مدان اور مدیان اور اسباق اور سوخ پیدا ہوئے۔(بائبل پیدایش باب۲۵ ایت نمبر: ۱-۲ ص۲۴) حضرت یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام نے چار شادیاں فرمائی تھیں اپ کی پہلی زوجہ کے بارے بائبل میں ہے ’’تب لابن نے اس جگہ کے سب لوگوں کو بلا کرجمع کیااور ان کی ضیافت کی اورجب شام ہوئی تو اپنی بیٹی لیاہ کو اس کے پاس لے ایا اور یعقوب اس سے ہم اغوش ہوا۔(بائبل پیدایش باب۲۹ ایت نمبر: ۲۲-۲۳ ص۳۰) دوسری زوجہ کے بارے بائبل میں ہے ’’اور لابن نے اپنی لونڈی زلفہ اپنی بیٹی لیاہ کے ساتھ کردی کہ اس کی لونڈی ہو۔(بائبل پیدایش باب۲۹ ایت نمبر: ۲۴ ص۳۰) تیسری زوجہ کے بارے بائبل میں ہے’’یعقوب نے ایسا ہی کیا کہ لیاہ کا ہفتہ پورا کیاتب لابن نے اپنی بیٹی راخل بھی اسے بیاہ دی۔(بائبل پیدایش باب۲۹ ایت نمبر: ۲۸ ص۳۰) چوتھی زوجہ بلہاہ کے بارے بائبل میں ہے’’اور اپنی لونڈی بلہاہ اپنی بیٹی راخل کو دی کہ اس کی لونڈی ہو۔(بائبل پیدایش باب۲۹ ایت نمبر: ۲۹ ص۳۰) حضرت سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام کے بارے بائبل میں ہے ’’اور اس کے پاس سات سو شاہزادیاں اس کی بیویاں اور تین سو حرمیں تھیں ۔(بائبل ۱-سلاطین باب۱۱ ایت نمبر: ۳ ص۳۴۰) مذکورہ بالا تمام انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام وہ ہیں جن پر یہودی اور عیسائی ایمان رکھتے ہیں تو جس طرح ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کی بنا پر ان انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے تقدس میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی اسی طرح ا س عمل کی وجہ سے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے تقدس اور اپ کی عظمت میں کوئی کمی واقع نہ ہوگی یونہی اگر ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کی وجہ سے ان محترم اور مکرم ہستیوں پر اعتراض نہیں کیا جا سکتا تو تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ایک سے زیادہ شادیوں پر بھی کوئی اعتراض نہیں کیاجا سکتا ۔ کثرت ازواج کا ایک اہم مقصد: یاد رہے کہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ایک سے زیادہ شادیاں فرمانا معاذاللہ تسکین نفس کے لئے ہر گز نہیں تھا کیونکہ اگراپ کی شخصیت میں اس کا ادنی سا شائبہ بھی موجود ہوتا تو اپ کے دشمنوں کو اس سے بہتر اور کوئی حربہ ہاتھ نہیں ا سکتا تھا جس کے ذریعے وہ اپ کے خلاف پروپیگنڈہ کرتے اپ کے دشمن جادوگر شاعرمجنون وغیرہ الزامات تو اپ پر لگاتے رہے لیکن کسی سخت سے سخت دشمن کو بھی ایسا حرف زبان پر لانے کی جرات نہ ہوئی جس کا تعلق جذباتی بے راہ روی سے ہو۔اسی طرح اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اپنی زندگی کے ابتدائی 25سال انتہائی عفت اور پاکبازی کے ساتھ گزارے اور پچیس سال کے بعد جب نکاح فرمایا تو ہم عمر خاتون سے نکاح میں دشواری نہ ہونے کے باوجود ایک ایسی خاتون کو شرف زوجیت سے سرفراز فرمایا جو عمر میں اپ سے 15سال بڑی تھیں اور اپ سے پہلے دو شوہروں کی بیوی رہ چکی تھیں اولاد والی بھی تھیں اور نکاح کا پیغام بھی اس خاتون نے خود بھیجا تھا پھر نکاح کے بعد پچاس سال کی عمر تک انہی کے ساتھ رہنے پر اکتفا کیا اور ا س دوران کسی اور رفیقہ حیات کی خواہش تک نہ فرمائی اور جب حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کے انتقال کے بعد اپ نے نکاح فرمایا تو کسی نوجوان خاتون سے نہیں بلکہ حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہا سے نکاح فرمایا جو عمر کے لحاظ سے بوڑھی تھیں ۔یونہی اعلان نبوت کے بعد جب کفار کی طرف سے حسین ترین عورتوں سے شادی کی پیشکش کی گئی تو اپ نے اسے ٹھکرا دیا نیز اپ نے جتنی خواتین کو زوجیت کا شرف عطا فرمایا ان میں صرف ایک خاتون ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کنواری تھیں بقیہ بیوہ یا طلاق یافتہ تھیں یہ تمام شواہد اس بات کی دلیل ہیں کہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ایک سے زیادہ شادیاں فرماناتسکین نفس کے لئے ہر گز ہر گز نہ تھابلکہ اپ کے اس طرز عمل پر انصاف کی نظر سے غور کیا جائے تو ہر انصاف پسند ادمی پر یہ واضح ہو جائے گاکہ کثیر شادیوں کے پیچھے بے شمار ایسی حکمتیں اور مقاصد پوشیدہ تھے جن کا متعدد شادیوں کے بغیر پورا ہونا مشکل ترین تھایہاں اس کا ایک مقصد ملاحظہ ہو۔ خواتین اس امت کا نصف حصہ ہیں اور انسانی زندگی کے ان گنت مسائل ایسے ہیں جن کا تعلق خاص طور پر عورتوں کے ساتھ ہے اور فطرتی طور پر عورت اپنی نسوانی زندگی سے متعلق مسائل پر غیر محرم مرد کے ساتھ گفتگو کرنے سے شرماتی ہے اسی طرح شرم و حیا کی وجہ سے عورتیں ازدواجی زندگی حیضنفاس اور جنابت وغیرہ سے متعلق مسائل کھل کر رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں پیش نہ کر سکتی تھیں اور حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا اپنا حال یہ تھا کہ اپ کنواری عورت سے بھی زیادہ شرم وحیا فرمایا کرتے تھے ۔ان حالات کی بنا پر حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو ایسی خواتین کی ضرورت تھی جو انتہائی پاک باز ذہین فطین دیانت دار اور متقی ہوں تاکہ عورتوں کے مسائل سے متعلق جو احکامات اور تعلیمات لے کرنبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم مبعوث ہوئے تھے انہیں ان کے ذریعے امت کی عورتوں تک پہنچایا جائے وہ مسائل عورتوں کو سمجھائے جائیں اور ان مسائل پر عمل کر کے دکھایا جا ئے اور یہ کام صرف وہی خواتین کر سکتی تھیں جو حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ساتھ ازدواجی رشتے میں منسلک ہوں اور ہجرت کے بعد چونکہ مسلمانوں کی تعداد میں اس تیزی کے ساتھ اضافہ ہونا شروع ہو ا کہ کچھ ہی عرصے میں ان کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی اس لئے ایک زوجہ سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی تھی کہ وہ تنہا ان ذمہ داریوں کو سر انجام دے سکیں گی۔ ایک امتی کی ذمہ داری: یہاں حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی شادیوں سے متعلق جو کلام ذکر کیااس سے مقصود کفار کی طرف سے اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی سیرت کے ا س پہلو پر کئے جانے والے اعتراضات کو ذہنوں سے صاف کرنا تھا اور اج کے زمانے میں چونکہ فحاشی عریانی اور بے حیائی عام ہے اور زیادہ شادیوں اور کم عمر عورت سے شادی کو معاشرے میں غلط نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ا س لئے ہر امتی کی یہ اہم ترین ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ازدواجی زندگی کے ان پہلووں پرغورو فکر نہ کرے اور اس حوالے سے دماغ میں انے والے وسوسوں کو یہ کہہ کر جھٹک دے کہ میں سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا امتی ہوں اور میرا یہ ایمان ہے کہ اپ کا کوئی عمل اللہ تعالی کے حکم اور ا س کی اجازت کے بغیر نہیں ہو سکتالہذا میں شیطان کے وسوسوں پر کسی صورت کان نہیں دھر سکتا۔اسی میں ایمان کی سلامتی ہے ورنہ اس بارے میں غوروفکر ایمان کے لئے شدید خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔