Surah Al Ahzab Ayat 40 (33:40)
The Combined Forces · Juz 22 · Madani
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰـكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا 40
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariمحمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے آخر میں تشریف لانے والے ہیں اور اللہ سب کچھ جاننے والاہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanمحمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں میں پچھلے اور اللہ سب کچھ جانتا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{ ما كان محمد ابا احد من رجالكم: محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ہیں ۔} جب سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا سے نکاح فرمالیاتوکفاراورمنافقین یہ کہنے لگے کہ اپ نے اپنے بیٹے کی بیوی سے نکاح کرلیا ہے !اس پریہ ایت نازل ہوئی اورارشادفرمایاگیاکہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تم میں سے کسی کے باپ نہیں تو حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ کے بھی آپ حقیقت میں باپ نہیں کہ ان کی منکوحہ آپ کے لئے حلال نہ ہوتی ۔یاد رہے کہ حضرت قاسم طیب طاہر اور ابراہیم رضی اللہ تعالی عنہم حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے حقیقی فرزند تھے مگر وہ اس عمر کو نہ پہنچے کہ انہیں رجال یعنی مرد کہا جائے کیونکہ وہ بچپن میں ہی وفات پاگئے تھے۔ (ایت میں مذکراولاد کی نفی نہیں بلکہ رجال یعنی بڑی عمر کے مردوں میں سے کسی کے باپ ہونے کی نفی ہے۔)( خازن الاحزاب تحت الایۃ: ۴۰ ۳ / ۵۰۳ جلالین الاحزاب تحت الایۃ: ۴۰ ص۳۵۵ مدارک الاحزاب تحت الایۃ: ۴۰ ص۹۴۳ ملتقطا) {و لكن رسول الله: لیکن اللہ کے رسول ہیں ۔} ایت کے شروع کے حصہ میں فرمایا کہ محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن جیسے جسمانی باپ ہوتا ہے ایسے ہی روحانی باپ بھی ہوتا ہے تو فرمادیا کہ اگرچہ یہ مردوں میں سے کسی کے جسمانی باپ نہیں ہیں لیکن روحانی باپ ہیں یعنی اللہ کے رسول ہیں توایت کے اس حصے سے مراد یہ ہوا کہ تما م رسول امت کو نصیحت کرنے ان پر شفقت فرمانے یونہی امت پر ان کی تعظیم و توقیر اور اطاعت لازم ہونے کے اعتبار سے امت کے باپ کہلاتے ہیں بلکہ ان کے حقوق حقیقی باپ کے حقوق سے بہت زیادہ ہوتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ امت ان کی حقیقی اولاد بن گئی اور حقیقی اولاد کے تمام احکام اس کے لئے ثابت ہوگئے بلکہ وہ صرف ان ہی چیزوں کے اعتبار سے امت کے باپ ہیں جن کا ذکر ہوا اورنبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم بھی چونکہ اللہ تعالی کے رسول ہیں اور حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ ان کی حقیقی اولاد نہیں تو ان کے بارے میں بھی وہی حکم ہے جو دوسرے لوگوں کے بارے میں ہے ۔(خازن الاحزاب تحت الایۃ: ۴۰ ۳ / ۵۰۳ مدارک الاحزاب تحت الایۃ: ۴۰ ص۹۴۳ ملتقطا) {و خاتم النبین: اور سب نبیوں کے اخر میں تشریف لانے والے ہیں ۔} یعنی محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اخری نبی ہیں کہ اب اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے بعدکوئی نبی نہیں ائے گا اورنبوت آپ پر ختم ہوگئی ہے اور آپ کی نبوت کے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی حتی کہ جب حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام نازل ہو ں گے تو اگرچہ نبوت پہلے پاچکے ہیں مگر نزول کے بعد نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی شریعت پر عمل پیرا ہوں گے اور اسی شریعت پر حکم کریں گے اور آپ ہی کے قبلہ یعنی کعبہ معظمہ کی طرف نماز پڑھیں گے۔( خازن الاحزاب تحت الایۃ: ۴۰ ۳ / ۵۰۳) نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا اخری نبی ہو نا قطعی ہے: یاد رہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا آخری نبی ہونا قطعی ہے اور یہ قطعیت قران و حدیث و اجماع امت سے ثابت ہے ۔ قران مجید کی صریح ایت بھی موجود ہے اور احادیث تواتر کی حد تک پہنچی ہوئی ہیں اور امت کا اجماع قطعی بھی ہے ان سب سے ثابت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سب سے اخری نبی ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی ہونے والا نہیں ۔ جو حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نبوت کے بعد کسی اور کو نبوت ملنا ممکن جانے وہ ختم نبوت کا منکر کافر اور اسلام سے خارج ہے۔اعلی حضرت امام احمد رضاخان رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : اللہ عزوجل سچا اور اس کا کلام سچا مسلمان پر جس طرح لا الـہ الا اللہ ماننا اللہ سبحنہ وتعالی کو احد صمد لا شریک لہ (یعنی ایک بے نیاز اور اس کا کوئی شریک نہ ہونا) جاننا فرض اول ومناط ایمان ہے یونہی محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو خاتم النبین ماننا ان کے زمانے میں خواہ ان کے بعد کسی نبی جدید کی بعثت کو یقینا محال وباطل جاننا فرض اجل وجزء ایقان ہے۔ ’’و لكن رسول الله و خاتم النبین‘‘ نص قطعی قرآن ہے اس کا منکر نہ منکر بلکہ شبہ کرنے والا نہ شاک کہ ادنی ضعیف احتمال خفیف سے توہم خلاف رکھنے والا قطعا اجماعا کافر ملعون مخلد فی النیران (یعنی ہمیشہ کے لئے جہنمی) ہے نہ ایسا کہ وہی کافر ہو بلکہ جو اس کے عقیدہ ملعونہ پر مطلع ہو کر اسے کافر نہ جانے وہ بھی کافر جو اس کے کافر ہونے میں شک و تردد کو راہ دے وہ بھی کافر بین الکافر جلی الکفران (یعنی واضح کافر اور اس کا کفر روشن) ہے۔( فتاوی رضویہ رسالہ: جزاء اللہ عدوہ باباہ ختم النبوۃ ۱۵ / ۶۳۰) ختم نبوت سے متعلق10احادیث: یہاں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے اخری نبی ہونے سے متعلق10احادیث ملاحظہ ہوں (1)…حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’میری مثال اورمجھ سے پہلے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے بہت حسین وجمیل ایک گھربنایامگراس کے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی لوگ اس کے گردگھومنے لگے اورتعجب سے یہ کہنے لگے کہ اس نے یہ اینٹ کیوں نہ رکھی پھراپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں (قصر نبوت کی) وہ اینٹ ہوں اورمیں خاتم النبین ہوں۔(مسلم کتاب الفضائل باب ذکر کونہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ص۱۲۵۵ الحدیث: ۲۲(۲۲۸۶)) (2)…حضرت ثوبان رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’بے شک اللہ عزوجل نے میرے لیے تمام روئے زمین کولپیٹ دیااورمیں نے اس کے مشرقوں اورمغربوں کودیکھ لیا۔ (اور اس حدیث کے اخر میں ارشاد فرمایا کہ) عنقریب میری امت میں تیس کذاب ہوں گے ان میں سے ہرایک گمان کرے گا کہ وہ نبی ہے حالانکہ میں خاتم النبین ہوں اورمیرے بعدکوئی نبی نہیں ہے ۔(ابوداود کتاب الفتن والملاحم باب ذکر الفتن ودلائلہا ۴ / ۱۳۲ الحدیث: ۴۲۵۲) (3)…حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’مجھے چھ وجوہ سے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام پر فضیلت دی گئی ہے ۔(1)مجھے جامع کلمات عطاکیے گئے ہیں ۔ (2)رعب سے میری مددکی گئی ہے۔ (3)میرے لیے غنیمتوں کوحلال کر دیا گیا ہے۔ (4)تمام روئے زمین کومیرے لیے طہارت اورنمازکی جگہ بنادیاگیاہے۔(5)مجھے تمام مخلوق کی طرف (نبی بنا کر) بھیجاگیاہے۔ (6)اورمجھ پرنبیوں (کے سلسلے) کوختم کیاگیاہے۔(مسلم کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ ص۲۶۶ الحدیث: ۵(۵۲۳)) (4)…حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’بیشک میرے متعدد نام ہیں میں محمد ہوں میں احمد ہوں میں ماحی ہوں کہ اللہ تعالی میرے سبب سے کفر مٹاتا ہے میں حاشر ہوں میرے قدموں پر لوگوں کا حشر ہوگا میں عاقب ہوں اور عاقب وہ جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔(ترمذی کتاب الادب باب ما جاء فی اسماء النبی صلی اللہ علیہ وسلم ۴ / ۳۸۲ الحدیث: ۲۸۴۹) (5)…حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’میں تمام رسولوں کا قائد ہوں اور یہ بات بطور فخرنہیں کہتا میں تمام پیغمبروں کا خاتم ہوں اور یہ بات بطور فخر نہیں کہتا اور میں سب سے پہلی شفاعت کرنے والا اور سب سے پہلا شفاعت قبول کیا گیا ہوں اور یہ بات فخر کے طور پر ارشاد نہیں فرماتا ۔(معجم الاوسط باب الالف من اسمہ: احمد ۱ / ۶۳ الحدیث: ۱۷۰) (6)…حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےحضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’بیشک میں اللہ تعالی کے حضور لوح محفوظ میں خاتم النبین (لکھا) تھا جب حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام اپنی مٹی میں گندھے ہوئے تھے۔(مسند امام احمد مسند الشامیین حدیث العرباض بن ساریۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم۶ / ۸۷ الحدیث:۱۷۱۶۳) (7)…حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےسرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’بے شک رسالت اور نبوت ختم ہوگئی اب میرے بعد نہ کوئی رسول ہے نہ کوئی نبی۔(ترمذیکتاب الرویا عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمباب ذہبت النبوۃ وبقیت المبشرات۴ / ۱۲۱الحدیث:۲۲۷۹) (8)…حضرت سعدبن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےحضور انور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے حضرت علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم سے ارشاد فرمایا: ’’اما ترضی ان تکون منی بمنزلۃ ہارون من موسی غیر انہ لا نبی بعدی‘‘(مسلمکتاب فضائل الصحابۃ باب من فضائل علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ص۱۳۱۰ الحدیث: ۳۱(۲۴۰۴)) یعنی کیا تم اس پر راضی نہیں کہ تم یہاں میری نیابت میں ایسے رہو جیسے حضرت موسی علیہ الصلوۃ و السلام جب اپنے رب سے کلام کے لئے حاضر ہوئے تو حضرت ہارون علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنی نیابت میں چھوڑ گئے تھے ہاں یہ فرق ہے کہ حضرت ہارون علیہ الصلوۃ والسلام نبی تھے جبکہ میری تشریف اوری کے بعد دوسرے کے لئے نبوت نہیں اس لئے تم نبی نہیں ہو۔ (9)…حضرت علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے شمائل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے دو کندھوں کے درمیان مہر نبوت تھی اور اپ خاتم النبیین تھے۔(ترمذیکتاب الرویا عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمباب ذہبت النبوۃ وبقیت المبشرات۴ / ۱۲۱الحدیث:۲۲۷۹) (10)…حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےحضور انور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اے لوگو!بے شک میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں لہذا تم اپنے رب کی عبادت کرو پانچ نمازیں پڑھواپنے مہینے کے روزے رکھواپنے مالوں کی خوش دلی کے ساتھ زکوۃ ادا کرو اپنے حکام کی اطاعت کرو (اور) اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاو۔(معجم الکبیر صدی بن العجلان ابو امامۃ الباہلی۔۔۔ الخ محمد بن زیاد الالہانی عن ابی امامۃ ۸ / ۱۱۵ الحدیث: ۷۵۳۵) نوٹ: حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ختم نبوت کے دلائل اور منکروں کے رد کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے فتاوی رضویہ کی14ویں جلد میں موجود رسالہ ’’المبین ختم النبیین‘‘(حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے اخری نبی ہونے کے دلائل) اور15ویں جلد میں موجود رسالہ ’’جزاء اللہ عدوہ بابائہ ختم النبوۃ‘‘ (ختم نبوت کا انکار کرنے والوں کا رد) مطالعہ فرمائیں ۔