Surah Al Ahzab Ayat 49 (33:49)
The Combined Forces · Juz 22 · Madani
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَیْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّوْنَهَاۚ-فَمَتِّعُوْهُنَّ وَ سَرِّحُوْهُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا 49
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاے ایمان والو!جب تم مسلمان عورتوں سے نکاح کرو پھر انہیں بغیر ہاتھ لگائے طلاق دیدو تو ان پرتمہاری وجہ سے کوئی عدت نہیں جسے تم شمار کرو تو انہیں فائدہ پہنچاؤ اور انہیں اچھے طریقے سے چھوڑو ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاے ایمان والو جب تم مسلمان عورتوں سے نکاح کرو پھر انہیں بے ہاتھ لگائے چھوڑ دو تو تمہارے لیے کچھ عدت نہیں جسے گنو تو انہیں کچھ فائدہ دو اور اچھی طرح سے چھوڑ دو۔
Tafseer (Urdu)
{اذا نكحتم المؤمنت ثم طلقتموهن من قبل ان تمسوهن: جب تم مسلمان عورتوں سے نکاح کرو پھر انہیں بغیر ہاتھ لگائے طلاق دیدو۔} اس آیت سے معلوم ہوا کہ اگر عورت کو ازدواجی تعلق قائم کرنے سے پہلے طلاق دی تو اس پر عدت واجب نہیں ۔یہاں اس سے متعلق مزید دو مسائل بھی ملاحظہ ہوں (1)…خلوت صحیحہ قربت کے حکم میں ہے تو اگر خلوت صحیحہ کے بعد طلاق واقع ہو تو عدت واجب ہوگی اگرچہ ازدواجی تعلق قائم نہ ہوا ہو ۔ (2)…یہ حکم مومنہ اور کتابیہ دونوں عورتوں کو عام ہے لیکن آیت میں مومنات کا ذکر فرمانا اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ مومنہ سے نکاح کرنا اولی ہے ۔ نوٹ:یاد رہے کہ فی زمانہ تمام اہل کتاب حربی ہیں اور حربیہ کتابیہ سے نکاح جائز نہیں بلکہ ممنوع اور گناہ ہے لیکن اگرکر لیا تو نکاح ہو جائے گا اوریہ حکم بھی اس وقت ہے کہ واقعی کتابیہ ہو اور اگر نام کی کتابیہ حقیقت میں لامذہب دہریہ ہے تو اس سے نکاح اصلا نہ ہوگا ۔ {فمتعوهن: تو انہیں فائدہ پہنچاو۔} فائدہ پہنچانے سے مراد یہ ہے کہ اگر عورت کا مہر مقرر ہو چکا تھا تو خلوت سے پہلے طلاق دینے سے شوہر پر نصف مہر واجب ہو گا اور اگر مہر مقرر نہیں ہوا تھا تو ایک جوڑا دینا واجب ہے جس میں تین کپڑے ہوتے ہیں ۔ {و سرحوهن سراحا جمیلا: اور انہیں اچھے طریقے سے چھوڑو۔} اچھی طرح چھوڑنا یہ ہے کہ ان کے حقوق ادا کر دیئے جائیں اور ان کو کوئی ضرر نہ دیا جائے اور انہیں روکا نہ جائے کیونکہ ان پر عدت نہیں ہے ۔