Surah Al Ahzab Ayat 52 (33:52)
The Combined Forces · Juz 22 · Madani
لَا یَحِلُّ لَكَ النِّسَآءُ مِنْۢ بَعْدُ وَ لَاۤ اَنْ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ اِلَّا مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ رَّقِیْبًا 52
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariان کے بعد (مزید) عورتیں تمہارے لئے حلال نہیں اور نہ یہ کہ ان کی جگہ اور بیویاں بدل لو اگرچہ تمہیں ان کا حسن پسند آئے مگر تمہاری کنیزیں جو تمہاری ملکیت میں ہوں اور اللہ ہر چیز پر نگہبان ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanان کے بعداور عورتیں تمہیں حلال نہیں اور نہ یہ کہ ان کے عوض اور بیبیاں بدلو اگرچہ تمہیں ان کا حسن بھائے مگر کنیز تمہارے ہاتھ کا مال اور اللہ ہر چیز پر نگہبان ہے۔
Tafseer (Urdu)
{لا یحل لك النسآء من بعد: ان کے بعد عورتیں تمہارے لئے حلال نہیں ۔} یعنی اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ کے نکاح میں موجودان 9 ازواج مطہرات کے بعد جنہیں آپ نے اختیار دیا تو انہوں نے اللہ تعالی اور رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو اختیار کیامزید عورتیں اپ کے لئے حلال نہیں اور نہ یہ حلال ہے کہ انہیں طلاق دے کر ان کی جگہ دوسری عورتوں سے نکاح کر لیں ۔ ان ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن کی یہ عزت افزائی اس لئے ہے کہ جب حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے انہیں اختیار دیا تھا تو انہوں نے اللہ تعالی اور رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو اختیار کیا اوردنیا کی آسائشوں کو ٹھکرا دیا چنانچہ رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے انہیں پر اکتفا فرمایا اورعمر مبارک کے اخر تک یہی ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت میں رہیں ۔ حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ آخر میں حضورانور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے لئے حلال کر دیا گیا تھا کہ جتنی عورتوں سے چاہیں نکاح فرمائیں اس صورت میں یہ آیت منسوخ ہے اور اس کی ناسخ آیت’’انا احللنا لك ازواجك۔۔۔الآیۃ ‘‘ ہے۔( مدارک الاحزاب تحت الایۃ: ۵۲ ص۹۴۷-۹۴۸) {الا ما ملكت یمینك: مگر تمہاری کنیزیں جو تمہاری ملکیت میں ہوں ۔} یعنی ان ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن میں سے کسی کو طلاق دے کر دوسری عورت سے نکاح کرنا حلال نہیں اگرچہ اپ کو اس کا حسن و جمال پسند ائے البتہ اپ کی وہ کنیزیں جو اپ کی ملکیت میں ہوں وہ اپ کے لئے حلال ہیں ا ور اللہ تعالی ہر چیز پر نگہبان ہے اس لئے کوئی شخص اللہ تعالی کی حدوں سے تجاوز نہ کرے۔ اس کے بعد حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالی عنہا حضوراکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ملک میں آئیں اور ان سے حضور انور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے فرزند حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالی عنہ پیدا ہوئے جنہوں نے چھوٹی عمر میں وفات پائی۔(خازن الاحزاب تحت الایۃ: ۵۲ ۳ / ۵۰۸ مدارک الاحزاب تحت الایۃ: ۵۲ ص۹۴۸ جلالین الاحزاب تحت الایۃ: ۵۲ ص۳۵۶ ملتقطا)