Surah Al Ahzab Ayat 55 (33:55)
The Combined Forces · Juz 22 · Madani
لَا جُنَاحَ عَلَیْهِنَّ فِیْۤ اٰبَآىٕهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآىٕهِنَّ وَ لَاۤ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اَخَوٰتِهِنَّ وَ لَا نِسَآىٕهِنَّ وَ لَا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّۚ-وَ اتَّقِیْنَ اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا 55
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariعورتوں پر ان کے باپوں اور بیٹوں اور بھائیوں اور بھتیجوں اور بھانجوں اور اپنے دین کی عورتوں اور اپنی کنیزوں کے بارے میں (پردہ نہ کرنے میں ) کوئی مضائقہ نہیں اور اللہ سے ڈرتی رہو۔ بیشک اللہ ہر چیز پر نگہبان ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanان پر مضائقہ نہیں ان کے باپ اور بیٹوں اور بھائیوں اور بھتیجوں اور بھانجوں اور اپنے دین کی عورتوں اور اپنی کنیزوں میں اور اللہ سے ڈرتی رہو بیشک ہر چیز اللہ کے سامنے ہے۔
Tafseer (Urdu)
{لا جناح علیهن فی ابآىهن: ان پران کے باپوں کے بارے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔} اس سے پہلی ایت میں پردے کا حکم دیا گیا اور اس ایت میں ان لوگوں کابیان کیاجارہاہے جن سے پردہ نہیں ہے۔ شان نزول : جب پردہ کرنے کا حکم نازل ہوا تو عورتوں کے باپ بیٹوں اور قریب کے رشتہ داروں نے رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ !صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کیا ہم اپنی ماؤں اور بیٹیوں کے ساتھ پردے کے باہر سے گفتگو کریں اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور ارشاد فرمایا گیا کہ عورتوں پر اس میں کچھ گناہ نہیں کہ وہ اپنے باپوں بیٹوں بھائیوںبھتیجوں اور بھانجوں سے پردہ نہ کریں اور ان قریبی رشتہ داروں کے سامنے آنے اور ان سے کلام کرنے میں کوئی حرج نہیں یونہی مسلمان عورتوں اور اپنی کنیزوں کے سامنے انا بھی جائز ہے۔ نوٹ: یہاں ایت میں چچا اور ماموں کا صراحت کے ساتھ ذکر نہیں کیا گیا کیونکہ وہ والدین کے حکم میں ہیں۔(ابو سعود الاحزاب تحت الایۃ: ۵۵ ۴ / ۳۳۱ مدارک الاحزاب تحت الایۃ: ۵۵ ص۹۴۹ خازن الاحزاب تحت الایۃ: ۵۵ ۳ / ۵۱۰ ملتقطا) عورت کے پردے سے متعلق4 شرعی مسائل: یہاں ایت کی مناسبت سے عورت کے پردے سے متعلق4شرعی مسائل ملاحظہ ہوں (1)… محرم رشتہ داروں سے پردہ نہیں ہے الا یہ کہ فتنے کا اندیشہ ہواور محرم سے مراد وہ رشتہ دار ہیں جن سے عورت کا نکاح کرنا ہمیشہ کے لئے حرام ہو۔ (2)…مسلمان عورت دوسری مسلمان عورت کودیکھ سکتی ہے اوراس کا وہی حکم ہے جو مرد کو مرد کی طرف نظر کرنے کا ہے یعنی ناف کے نیچے سے گھٹنے تک نہیں دیکھ سکتی باقی اعضاء کی طرف اس صورت میں نظر کرسکتی ہے جبکہ شہوت کا اندیشہ نہ ہو۔( ہدایہ کتاب الکراہیۃ فصل فی الوطء والنظر واللمس ۲ / ۳۷۰-۳۷۱) (3)…نیک پرہیز گارعورت کو یہ چاہیے کہ وہ اپنے اپ کو بدکار عورت کے دیکھنے سے بچائے یعنی اس کے سامنے دوپٹہ وغیرہ نہ اتارے کیونکہ وہ اسے دیکھ کر مردوں کے سامنے اس کی شکل و صورت کا ذکر کرے گی۔(عالمگیری کتاب الکراہیۃ الباب الثامن فیما یحل للرجل النظر الیہ وما لا یحل لہ۔۔۔ الخ ۵ / ۳۲۷) (4)…کافرہ عورتوں سے پردہ کرنا اور اپنے جسم کو چھپانا لازم ہے سوائے جسم کے ان حصوں کے جو گھر کے کام کاج کے لئے کھولنے ضروری ہوتے ہیں ۔(جمل الاحزاب تحت الایۃ: ۵۵ ۶ / ۱۹۶) اللہ تعالی تمام مسلمان خواتین کو شریعت کے احکام کے مطابق پردہ کرنے کی توفیق عطا فرمائےامین۔ {و اتقین الله: اور اللہ سے ڈرتی رہو۔} یعنی اے عورتو! تمہیں جو پردے کا حکم دیا گیااسے پورا کرو اوراس کی خلاف ورزی کرنے کے بارے میں اللہ تعالی سے ڈرتی رہو یہاں تک کہ تمہیں کوئی غیر نہ دیکھے۔ تم پر اپنی طاقت کے مطابق احتیاط سے کام لینا لازم ہے اور یاد رکھو کہ بیشک اللہ تعالی ہر چیز پر نگہبان ہے اور بندوں کے اقوال اور افعال کسی حال میں بھی اس سے چھپے ہوئے نہیں ہیں۔(روح البیان الاحزاب تحت الایۃ: ۵۵۷ / ۲۱۸ قرطبیالاحزابتحت الایۃ:۵۵۷ / ۱۷۰الجزء الرابع عشر ملتقطا)