The verse of Durood (Salawat) on the Prophet ﷺ
Surah Al Ahzab Ayat 56 (33:56)
The Combined Forces · Juz 22 · Madani
اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا 56
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں ۔ اے ایمان والو!ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبیشک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر اے ایمان والوان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔
Tafseer (Urdu)
{ان الله و ملىكته یصلون على النبی: بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں ۔} یہ ایت مبارکہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی صریح نعت ہےجس میں بتایا گیا کہ اللہ تعالی اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پررحمت نازل فرماتا ہے اور فرشتے بھی اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے حق میں دعائے رحمت کرتے ہیں اور اے مسلمانو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو یعنی رحمت و سلامتی کی دعائیں کرو۔ اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃاللہ تعالی علیہ نے انتہائی عقیدت و محبت کے ساتھ اشعار کی صورت میں بارگاہ رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میں درود و سلام کا ہدیہ پیش کیا ہے انہی کے الفاظ میں ہم بھی عرض کرتے ہیں: کعبہ کے بدرالدجی تم پہ کروڑوں درود طیبہ کے شمس الضحی تم پہ کروڑوں درود شافع روز جزا تم پہ کروڑوں درود دافع جملہ بلا تم پہ کروڑوں درود اور مصطفی جان رحمت پہ لاکھوں سلام شمع بزم ہدایت پہ لاکھوں سلام شہریار ارم تاجدار حرم نوبہار شفاعت پہ لاکھوں سلام شب اسری کے دولھا پہ دائم درود نوشہ بزم جنت پہ لاکھوں سلام صلوۃ کا معنی: صلوۃ کا لغوی معنی دعا ہے جب اس کی نسبت اللہ تعالی کی طرف کی جائے تو اس سے مراد رحمت فرمانا ہے اور جب اس کی نسبت فرشتوں کی طرف کی جائے تو اس سے مراد استغفار کرنا ہے اور جب ا س کی نسبت عام مومنین کی طرف کی جائے تو اس سے مراد دعا کرنا ہے۔(تفسیرات احمدیہ الاحزاب تحت الایۃ: ۵۶ ص۶۳۴) علامہ احمد صاوی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : (یہاں ایت میں ) اللہ تعالی کے درود بھیجنے سے مراد ایسی رحمت فرمانا ہے جو تعظیم کے ساتھ ملی ہوئی ہو اور فرشتوں کے درود بھیجنے سے مراد ان کا ایسی دعا کرنا ہے جو رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی شان کے لائق ہو۔(صاوی الاحزاب تحت الایۃ: ۵۶ ۵ / ۱۶۵۴) ایت درود اور حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی عظمت و شان: یہ ایت مبارکہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی انتہائی عظمت و شان پر دلالت کرتی ہے یہاں اس سے متعلق بزرگان دین کے 3ارشادات ملاحظہ ہوں : (1)…حافظ محمد بن عبد الرحمن سخاوی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :درود شریف کی ایت مدنی ہے اور ا س کا مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالی اپنے بندوں کو اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی وہ قدر و منزلت بتا رہا ہے جو ملاء اعلی (عالم بالا یعنی فرشتوں ) میں اس کے حضور ہے کہ وہ مقرب فرشتوں میں اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ثنا بیان فرماتا ہے اور یہ کہ فرشتے اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر صلاۃ بھیجتے ہیں پھر عالم سفلی کو حکم دیا کہ وہ بھی اپ پر صلاۃ و سلام بھیجیں تاکہ نیچے والی اور اوپر والی ساری مخلوق کی ثنا اپ پر جمع ہو جائے۔ مزید فرماتے ہیں :ایت میں صیغہ ’’ یصلون‘‘ لایا گیا ہے جو ہمیشگی پر دلالت کرتا ہے تاکہ معلوم ہو کہ اللہ تعالی اور ا س کے فرشتے ہمارے نبی پر ہمیشہ ہمیشہ درود بھیجتے ہیں حالانکہ اولین و اخرین کی انتہائی تمنا یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالی کی ایک خاص رحمت ہی انہیں حاصل ہو جائے تو زہے نصیب اور ان کی قسمت یہ کہاں !بلکہ اگر عقلمند سے پوچھا جائے کہ ساری مخلوق کی نیکیاں تیرے نامہ اعمال میں ہوں تجھے یہ پسند ہے یا کہ اللہ تعالی کی ایک خاص رحمت تجھ پر نازل ہو جائے تو وہ اللہ تعالی کی ایک خاص رحمت کو پسند کرے گا۔اس بات سے اس ذات کے مقام کے بارے میں اندازہ لگا لو جن پر ہمارا رب اور اس کے تمام ملائکہ ہمیشہ ہمیشہ درود بھیجتے ہیں ۔(القول البدیع نبذۃ یسیرۃ من فوائد قولہ تعالی: ان اللہ وملائکتہ یصلون علی النبی۔۔۔ الخ ص۸۵-۸۶) (2)…امام سہل بن محمد رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:اللہ تعالی نے اس ارشاد ’’ان الله و ملىكته یصلون على النبی‘‘ کے ساتھ محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو جو شرف بخشا وہ ا س شرف سے زیادہ بڑا ہے جو فرشتوں کو حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دے کر حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام کو بخشا تھاکیونکہ اللہ تعالی کا فرشتوں کے ساتھ سجدے میں شریک ہوناممکن ہی نہیں جبکہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر درود بھیجنے کی خود اللہ تعالی نے اپنے متعلق خبر دی ہے اور پھر فرشتوں کے متعلق خبر دی ہے پس اللہ تعالی کی طرف سے جو شرف حاصل ہو وہ اس شرف سے بڑھ کر ہے جو صرف فرشتوں سے حاصل ہو اور اللہ تعالی اس شرف کو عطا فرمانے میں شریک نہ ہو۔(القول البدیع نبذۃ یسیرۃ من فوائد قولہ تعالی: ان اللہ وملائکتہ یصلون علی النبی۔۔۔ الخ ص۸۶-۸۷) (3)…علامہ احمد صاوی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ اس ایت مبارکہ میں اس بات پر بہت بڑی دلیل ہے کہ تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم رحمتوں کے نازل ہونے کی جگہ ہیں اور علی الاطلاق ساری مخلوق سے افضل ہیں ۔(صاوی الاحزاب تحت الایۃ: ۵۶ ۵ / ۱۶۵۴) درود پاک کے4فضائل: احادیث میں درود شریف پڑھنے کی بکثرت ترغیب دلائی گئی اور بیسیوں مقامات پراس کی فضیلت بیان کی گئی ہے ترغیب کے لئے یہاں 4احادیث ملاحظہ ہوں (1)…حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں : ایک دن حضورپرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تشریف لائے اور بشاشت چہرہ اقدس میں نمایاں تھیارشاد فرمایا: ’’میرے پاس حضرت جبریل علیہ السلام ائے اور کہا: ’’اپ کا رب عزوجل فرماتا ہے: کیا اپ راضی نہیں کہ اپ کی امت میں جو کوئی اپ پر درود بھیجے میں اس پر دس بار درود بھیجوں گا اور اپ کی امت میں جو کوئی اپ پر سلام بھیجے میں اس پر دس بار سلام بھیجوں گا۔(سنن نسائی کتاب السہو باب الفضل فی الصلاۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم ص۲۲۲ الحدیث: ۱۲۹۲) (2)… حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےحضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’قیامت کے دن مجھ سے سب لوگوں میں زیادہ قریب وہ ہوگا جس نے سب سے زیادہ مجھ پر درود بھیجا ہے۔(ترمذی کتاب الوتر باب ما جاء فی فضل الصلاۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم ۲ / ۲۷ الحدیث: ۴۸۴) (3)…حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’جو مجھ پر ایک بار درود بھیجے اور وہ قبول ہو جائے تو اللہ تعالی اس کے 80 برس کے گناہ مٹا دے گا۔(در مختارورد المحتار کتاب الصلاۃ باب صفۃ الصلاۃ فصل فی بیان تالیف الصلاۃ الی انتہائہا ۲ / ۲۸۴) (4)…حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں :جو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر ایک بار درود بھیجے تو اللہ تعالی اوراس کے فرشتے اس پر ستر بار درود بھیجتے ہیں ۔(مسند امام احمد مسند عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہما ۲ / ۶۱۴ الحدیث: ۶۷۶۶) درود پاک کی44 برکتیں : درود پاک پڑھنا عظیم ترین سعادتوں اور بے شمار برکتوں کے حامل اور افضل ترین اعمال میں سے ایک عمل ہے بزرگان دین نے درود شریف کی برکتوں کو بکثرت بیان کیا ہے اور مختلف کتابوں میں ان برکتوں کو جمع کر کے بیان کیا گیا ہے یہاں ان میں سے 44برکتیں پڑھ کر اپنے دلوں کو منور کریں اور درود پاک کی عادت بنا کر ان برکتوں کو حاصل کریں : (1)جو خوش نصیب رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر درود بھیجتا ہے اس پر اللہ تعالیفرشتے اور رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم خود درود بھیجتے ہیں ۔ (2)درود شریف خطاوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔ (3)درود شریف سے اعمال پاکیزہ ہو جاتے ہیں ۔ (4)درود شریف سے درجات بلند ہوتے ہیں ۔ (5)گناہوں کی مغفرت کر دی جاتی ہے۔ (6)درود بھیجنے والے کے لئے درود خود استغفار کرتا ہے۔(7)اس کے نامہ اعمال میں اجر کا ایک قیراط لکھا جاتا ہے جو احد پہاڑ کی مثل ہوتاہے۔(8) درودپڑھنے والے کو اجر کاپورا پوراپیمانہ ملے گا۔(9)درود شریف ا س شخص کے لئے دنیا و اخرت کے تمام امور کیلئے کافی ہو جائے گا جو اپنے وظائف کا تمام وقت درود پاک پڑھنے میں بسر کرتا ہو۔ (10)مصائب سے نجات مل جاتی ہے۔ (11)اس کے درود پاک کی حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم گواہی دیں گے۔ (12)اس کے لئے شفاعت واجب ہو جاتی ہے۔(13)درود شریف سے اللہ تعالی کی رضا اور ا س کی رحمت حاصل ہوتی ہے۔ (14) اللہ تعالی کی ناراضی سے امن ملتا ہے۔ (15)عرش کے سایہ کے نیچے جگہ ملے گی۔ (16)میزان میں نیکیوں کا پلڑا بھاری ہو گا۔(17)حوض کوثر پر حاضری کا موقع میسر ائے گا۔(18)قیامت کی پیاس سے محفوظ ہو جائے گا۔ (19)جہنم کی اگ سے چھٹکارا پائے گا۔ (20) پل صراط پر چلنا اسان ہو گا۔ (21)مرنے سے پہلے جنت کی منزل دیکھ لے گا۔(22)جنت میں کثیر بیویاں ملیں گی۔(23) درود شریف پڑھنے والے کو بیس غزوات سے بھی زیادہ ثواب ملے گا۔(24) درود شریف تنگدست کے حق میں صدقہ کے قائم مقام ہوگا۔ (25)یہ سراپا پاکیزگی و طہارت ہے۔ (26) درود کے ورد سے مال میں برکت ہوتی ہے۔ (27)اس کی وجہ سے سو بلکہ اس سے بھی زیادہ حاجات پوری ہوتی ہیں ۔ (28)یہ ایک عبادت ہے۔ (29) درود شریف اللہ تعالی کے نزدیک پسندیدہ اعمال میں سے ہے۔(30)درود شریف مجالس کی زینت ہے۔(31)درود شریف سے غربت و فقر دور ہوتا ہے۔ (32)زندگی کی تنگی دور ہو جاتی ہے۔ (33)اس کے ذریعے خیر کے مقام تلا ش کئے جاتے ہیں ۔ (34)درود پاک پڑھنے والا قیامت کے دن تما م لوگوں سے زیادہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے قریب ہو گا۔(35)درود شریف سے درود پڑھنے والا خوداس کے بیٹے پوتے نفع پائیں گے۔ (36)وہ بھی نفع حاصل کرے گا جس کو درود پاک کا ثواب پہنچایا گیا۔ (37)اللہ تعالی اوراس کے رسول مکرم کا قرب نصیب ہو گا۔(38)یہ درود ایک نور ہے اس کے ذریعے دشمنوں پر فتح حاصل کی جاتی ہے۔ (39)نفاق اور زنگ سے دل پاک ہوجاتا ہے۔ (40)درود شریف پڑھنے والے سے لوگ محبت کرتے ہیں ۔ (41)خواب میں حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی زیارت ہوتی ہے۔(42)درود شریف پڑھنے والا لوگوں کی غیبت سے محفوظ رہتا ہے۔ (43) درود شریف تمام اعمال سے زیادہ برکت والا اور افضل عمل ہے۔ (44)درود شریف دین و دنیا میں زیادہ نفع بخش ہے اور ا س کے علاوہ اس وظیفہ میں اس سمجھدار ادمی کے لئے بہت وسیع ثواب ہے جو اعمال کے ذخائر کو اکٹھاکرنے پر حریص ہے اور عظیم فضائل بہترین مناقب اور کثیر فوائد پر مشتمل عمل کے لئے جوکوشاں ہے۔ اللہ تعالی ہمیں بکثرت درود پاک پڑھنے کی توفیق عطا فرمائےامین۔ درود پاک پڑھنے کی حکمتیں : اللہ تعالی کے حکم پر عمل کرتے ہوئے درود شریف پڑھنا ایک عظیم عبادت ہےاس کے ساتھ ساتھ بزرگوں نے درود شریف پڑھنے کی حکمتیں بھی بیان فرمائی ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اللہ تعالی کے بعد جملہ مخلوقات میں سب سے زیادہ کریم رحیم شفیق عظیم اور سخی ہیں اور حبیب خدا تاجدار انبیاءسرور ہر دو سرا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے مومنوں پر سب سے زیادہ احسانات ہیں اس لئے محسن اعظم کے احسان کے شکریہ میں ہم پر درود پڑھنا مقرر کیا گیا ہے چنانچہ علامہ سخاوی رحمۃاللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں :نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر درود پڑھنے کا مقصد اللہ تعالی کے حکم کی پیروی کر کے اللہ تعالی کا قرب حاصل کرنا اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے حق کو ادا کرنا ہے۔ بعض بزرگوں نے مزید فرمایا کہ ہمارا نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر درود بھیجنا ہماری طرف سے اپ کے درجات کی بلندی کی سفارش نہیں ہو سکتا کیونکہ ہم جیسے ناقص بندے اپ جیسے کامل و اکمل کی شفاعت نہیں کر سکتے لیکن اللہ تعالی نے ہمیں اس کا بدلہ چکانے کا حکم فرمایا جس نے ہم پر احسان وانعام کیا اور اگر ہم احسان چکانے سے عاجز ہوں تو محسن کے لئے دعا کریں لیکن چونکہ اللہ تعالی کو معلوم ہے کہ ہم اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے احسان کا بدلہ دینے سے عاجز ہیں تو ا س نے درود پڑھنے کی طرف ہماری رہنمائی فرمائی تاکہ ہمارے درود اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے احسان کا بدلہ بن جائیں کیونکہ اپ کے احسان سے افضل کوئی احسان نہیں ۔ ابو محمدمرجانی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :اے مخاطب!نبی رحمت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر درود بھیجنے کا نفع حقیقت میں تیری ہی طرف لوٹتا ہے گویا تو اپنے لئے دعا کر رہا ہے۔ ابن عربی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر درود بھیجنے کا فائدہ درود بھیجنے والے کی طرف لوٹتا ہے کیونکہ ا س کا درود پڑھنا اس بات کی دلیل ہے کہ درود شریف پڑھنے والے کا عقیدہ صاف ہے اور اس کی نیت خالص ہے اور اس کے دل میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی محبت ہے اور اسے اللہ تعالی کی طرف سے نیکی پر مددحاصل ہے اور اس کے اور ا س کے اقا و مولی دو عالم کے دولہا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے درمیان ایک مبارک اور مقدس نسبت موجود ہے۔(القول البدیع المقصود بالصلاۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم ص۸۳ ملخصا) درود پاک نہ پڑھنے کی 2وعیدیں : احادیث میں جہاں درود پڑھنے کے فضائل بیان ہوئے ہیں وہیں درود پاک نہ پڑھنے کی وعیدیں بھی بیان ہوئی ہیں یہاں ان میں سے دو احادیث درج ذیل ہیں (1)…حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھیں اوراس میں اللہ تعالی کاذکرنہ کریں اورنہ اس کے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر درود پڑھیں تو (قیامت کے دن) ان کی وہ مجلس ان کے لیے باعث ندامت ہوگیاگر اللہ تعالی چاہے گا تو انہیں عذاب دے گااور چاہے گاتوان کومعاف فرمادے گا۔(سنن ترمذی کتاب الدعوات عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باب فی القوم یجلسون ولا یذکرون اللہ ۵ / ۲۴۷ الحدیث: ۳۳۹۱) (2)…حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےسید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جس کے پاس میرا ذکر ہوا اور اس نے مجھ پر درود پاک نہ پڑھا وہ بدبخت ہے۔(معجم الاوسط باب العین من اسمہ : علی ۳ / ۶۲ الحدیث: ۳۸۷۱) درود پاک سے متعلق6 شرعی احکام: ایت کی مناسبت سے درود پاک سے متعلق6 اہم باتیں ملاحظہ ہوں (1)…کسی مجلس میں سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ذکرکیا جائے تو ذکر کرنے اور سننے والے کاایک مرتبہ درود و سلام پڑھنا واجب ہے اور اس سے زیادہ مستحب ہے اور نماز کے قعدہ اخیرہ میں تشہد کے بعد درود شریف پڑھنا سنت ہے۔ (2)… حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے تابع کر کے آپ کی آل و اصحاب رضی اللہ تعالی عنہم اور دوسرے مومنین پر بھی درود بھیجا جا سکتا ہے یعنی درود شریف میں آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے نام اقدس کے بعد ان کو شامل کیا جا سکتا ہے جبکہ مستقل طور پر حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے سوا ان میں سے کسی پر درود بھیجنا مکرو ہ ہے۔ (3)…درود شریف میں ال و اصحاب رضی اللہ تعالی عنہم کا ذکر شروع سے چلتا ا رہا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آل کے ذکر کے بغیر درود مقبول نہیں یعنی درود شریف میں حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے اہل بیت کو بھی شامل کیا جائے۔ (4)… درود شریف اللہ تعالی کی طرف سے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی عزت وتکریم ہے۔ علماء نے اللہم صل علی محمد کے معنی یہ بیان کئے ہیں کہ یا رب!محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو عظمت عطا فرما دنیا میں ان کا دین بلند کر کےان کی دعوت غالب فرما کر اور ان کی شریعت کو بقا عنایت کر کے اور آخرت میں ان کی شفاعت قبول فرما کر اور ان کا ثواب زیادہ کر کے اور اولین و آخرین پر ان کی فضیلت کا اظہار فرما کر اور انبیاء و مرسلین علیہم الصلوۃ والسلام اور ملائکہ اور تمام مخلوق پر ان کی شان بلند کر کے۔(مدارک الاحزاب تحت الایۃ: ۵۶ ص۹۵۰ تفسیرات احمدیہ الاحزاب تحت الایۃ: ۵۶ ص۶۳۵ ملتقطا) (5)…خطبے میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا نام پاک سن کر دل میں درود پڑھیں زبان سے سکوت فرض ہے۔(فتاوی رضویہ باب الجمعۃ ۸ / ۳۶۵) (6)…اس ایت میں اللہ تعالی نے درود و سلام پڑھنے کے لئے کسی وقت اور خاص حالت مثلا کھڑے ہوکر یابیٹھ کر پڑھنے کی قیدنہیں لگائی چنانچہ کھڑے ہوکریابیٹھ کر جہاں چاہے جس طرح چاہے نمازسے قبل یابعدیونہی اذان سے پہلے یا بعدجب چاہے درود پاک پڑھناجائزہے۔ سب سے افضل درود اور درود پاک پڑھنے کے اداب: یہاں سب سے افضل درود اور درود پاک پڑھنے کے چند اداب ملاحظہ ہوں (1)…سب درودوں سے افضل درود وہ ہے جو سب اعمال سے افضل یعنی نماز میں مقرر کیا گیا ہے یعنی درود ابراہیمی۔ (2)…درود شریف راہ چلتے بھی پڑھنے کی اجازت ہے البتہ جہاں نجاست پڑی ہو وہاں پڑھنے سے رک جائے۔ (3)…بہتر یہ ہے ایک وقت معین کرکے ایک تعداد مقرر کر لے اورروزانہ وضو کر کےدوزانو بیٹھ کر ادب کے ساتھ مدینہ طیبہ کی طرف منہ کر کے مقرر کردہ تعداد کے مطابق درود عرض کیا کرے اور اس کی مقدار سو بار سے کم نہ ہوہاں اس سے زیادہ جس قدر نبھا سکے بہتر ہے۔ (4)…اس کے علاوہ اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے باوضو بے وضو ہر حال میں درود جاری رکھے۔ (5)… بہتر یہ ہے کہ ایک خاص صیغہ کا پابند نہ ہوبلکہ وقتا فوقتا مختلف صیغوں سے درود عرض کرتا رہے تاکہ حضور قلب میں فرق نہ ہو۔(فتاوی رضویہ باب صفۃ الصلاۃ۶ / ۱۸۳ ملخصا) حاجتیں پوری ہونے کا ایک مفید وظیفہ: علامہ احمد سخاوی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :اس ایت کریمہ کے فوائد میں سے ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ ادمی نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی قبر انور کے پاس کھڑے ہو کر یہ ایت پڑھے: ’’ ان الله و ملىكته یصلون على النبی-یایها الذین امنوا صلوا علیه و سلموا تسلیما‘‘ ترجمہ کنزالعرفان: بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پردرودبھیجتے ہیں ۔ اے ایمان والو! ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔ پھر کہے: ’’صلی اللہ علیک یا محمد‘‘[1] یہاں تک کہ ستر مرتبہ یہی کہتا چلا جائے تو فرشتہ اسے پکارتا ہے: ’’صلی اللہ علیک‘‘ اے فلاں ! تیری کوئی حاجت پوری ہوئے بغیر نہ رہے گی۔(القول البدیع نبذۃ یسیرۃ من فوائد قولہ تعالی: ان اللہ وملائکتہ یصلون علی النبی۔۔۔ الخ ص۸۷) طیبہ کے ماہ تمام جملہ رسل کے امام نوشہ ملک خدا تم پہ کروڑوں درود تم سے جہاں کا نظام تم پہ کروڑوں سلام تم پہ کروڑوں ثنا تم پہ کروڑوں درود تم ہو جواد و کریم تم ہو رؤف و رحیم بھیک ہو داتا عطا تم پہ کروڑوں درود خلق کے حاکم ہو تم رزق کے قاسم ہو تم تم سے ملا جو ملا تم پہ کروڑوں درود نافع و دافع ہو تم شافع و رافع ہو تم تم سے بس افزوں خدا تم پہ کروڑوں درود شافی و نافی ہو تم کافی و وافی ہو تم درد کو کردو دوا تم پہ کروڑوں درود نوٹ:درود پاک کے فضائلفوائداداب اور اس سے متعلق دیگر چیزوں کی معلومات حاصل کرنے کے لئے راقم کی کتاب ’’رحمتوں کی برسات‘‘ کا مطالعہ فرمائیں ۔ [1] ۔۔۔ یہ وظیفہ پڑھتے وقت ’’صلی اللہ علیک یا محمد‘‘ کی بجائے ’’صلی اللہ علیک یا رسول اللہ‘‘ پڑھا جائے۔ اس کے بارے مزید تفصیل صراط الجنان جلد1صفحہ51پر ملاحظہ کیجئے۔