Surah Al Ahzab Ayat 57 (33:57)
The Combined Forces · Juz 22 · Madani
اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِیْنًا 57
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک جو اللہ اور اس کے رسول کوایذا دیتے ہیں ان پردنیا اور آخرت میں اللہ نے لعنت فرما دی ہے اور اللہ نے ان کے لیے رسواکردینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبیشک جو ایذا دیتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کو ان پر اللہ کی لعنت ہے دنیا اور آخرت میں اور اللہ نے ان کے لیے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{ان الذین یؤذون الله و رسوله: بیشک جو اللہ اور اس کے رسول کوایذا دیتے ہیں ۔} اس ایت میں ایذا دینے والوں سے مراد کفار ہیں جو اللہ تعالی کی شان میں ایسی باتیں کہتے ہیں جن سے وہ منزہ اور پاک ہے اوروہ کفار مراد ہیں جو رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تکذیب کرتے ہیں ان پر دنیا اور اخرت میں اللہ تعالی کی لعنت ہے اور اللہ تعالی نے ان کے لیے اخرت میں رسواکردینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ یاد رہے کہ اللہ تعالی اس سے پاک ہے کہ کوئی اسے ایذا دے سکے یا اسے کسی سے ایذا پہنچےاس لئے یہاں اللہ تعالی کو ایذا دینے سے مراد اس کے حکم کی مخالفت کرنا اور گناہوں کا ارتکاب کرنا ہے یایہاں اللہ تعالی کا ذکر صرف تعظیم کے طور پر ہے جبکہ حقیقت میں اللہ تعالی اور اس کے رسول کو ایذا دینے سے مراد خاص رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو ایذا دینا ہےجیسے جس نے رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی اطاعت کی تو اس نے اللہ تعالی کی اطاعت کی اسی طرح جس نے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو ایذا دی اس نے اللہ تعالی کو ایذا دی۔(جلالین الاحزاب تحت الایۃ: ۵۷ ص۳۵۷ خازن الاحزاب تحت الایۃ: ۵۷ ۳ / ۵۱۱ روح البیان الاحزاب تحت الایۃ: ۵۷ ۷ / ۲۳۷ ملتقطا) نوٹ: حضورپر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے کسی فعل شریف کو ہلکی نگاہ سے دیکھنا یا کسی قسم کا اعتراض کرنا یا اپ کے ذکر خیر کو روکنا اوراپ کو عیب لگانا بھی نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو ایذا دینے میں داخل ہے اور اس قسم کے لوگ بھی دنیا و اخرت میں لعنت کے مستحق ہیں ۔