Surah Al Ahzab Ayat 59 (33:59)
The Combined Forces · Juz 22 · Madani
یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّؕ-ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا 59
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاے نبی!اپنی بیویوں اور اپنی صاحبزادیو ں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرمادو کہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے او پر ڈالے رکھیں ، یہ اس سے زیادہ نزدیک ہے کہ وہ پہچانی جائیں تو انہیں ستایا نہ جائے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاے نبی اپنی بیبیوں اور صاحبزادیو ں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرمادو کہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے منہ پر ڈالے رہیں یہ اس سے نزدیک تر ہے کہ ان کی پہچان ہو تو ستائی نہ جائیں اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
Tafseer (Urdu)
{یایها النبی قل لازواجك و بنتك: اے نبی اپنی بیویوں اورصاحبزادیوں سے فرمادو۔} ارشاد فرمایا کہ اے پیارے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ اپنی ازواج مطہرات اپنی صاحبزادیو ں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرمادیں کہ جب انہیں کسی حاجت کے لئے گھر سے باہر نکلنا پڑے تو وہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے منہ پر ڈال کر رکھیں اوراپنے سر اور چہرے کو چھپائیں ۔زمانہ جاہلیت میں یہ طریقہ تھاکہ ازادعورتیں اور باندیاں دونوں قمیص اوردوپٹہ پہنے چہرہ کھول کرباہرنکلتی تھیں اورجب رات کے وقت قضائ حاجت کے لیے کھجوروں کے جھنڈ اورنشیبی زمینوں میں جاتیں تو بدکارلوگ باندیوں کے پیچھے جاتے اوربعض اوقا ت وہ ازادعورتوں پربھی دست درازی کرتے اوریہ کہتے کہ ہم نے اس کوباندی گمان کیاتھا۔اس پر ازادعورتوں کویہ حکم دیاگیاکہ وہ چادر سے جسم ڈھانک کر سر اور منہ چھپا کر باندیوں سے اپنی وضع ممتاز کر دیں تاکہ کوئی شخص ان کے متعلق بری خواہش نہ کرے۔( البحرالمحیط الاحزاب تحت الایۃ: ۵۹ ۷ / ۲۴۰) یاد رہے کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ لونڈیوں کو ستانا جائز تھا بلکہ یہ ان فاسق وفاجر لوگوں کے ایک حیلے کے سامنے بند باندھنے کیلئے فرمایا گیا۔ {ذلك ادنى ان یعرفن فلا یؤذین: یہ اس سے زیادہ نزدیک ہے کہ وہ پہچانی جائیں تو انہیں ستایا نہ جائے۔} یعنی اگرازادمسلمان عورتیں اس طرح چادراوڑھ کرچہرہ ڈھانپ کرباہرنکلیں گی توانہیں دورسے پہچان لیاجائے گاکہ یہ عزت داراورباحیا خواتین ہیں اوراس سے ان کی عزت محفوظ رہے گی اورستائی بھی نہیں جائیں گی۔اس ایت مبارکہ سے ہمارے زمانے کی ان عورتوں کودرس عبرت حاصل کرناچاہئے جوشرم وحیا کی چادراتارکربن سنور کر بازاروں کی رونق بنی رہتی ہیں اورلوگوں کی ہوس کانشانہ بنتی ہیں اوراوباش قسم کے لوگ ان پراوازیں کستے اورچھیڑخانی کرتے ہیں ۔