Surah Al Ahzab Ayat 60 (33:60)
The Combined Forces · Juz 22 · Madani
لَىٕنْ لَّمْ یَنْتَهِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْمُرْجِفُوْنَ فِی الْمَدِیْنَةِ لَنُغْرِیَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا یُجَاوِرُوْنَكَ فِیْهَاۤ اِلَّا قَلِیْلًاﳝ 60
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariمنافق اوروہ کہ جن کے دلوں میں مرض ہے اور وہ لوگ جو مدینے میں جھوٹی خبریں پھیلانے والے ہیں اگرباز نہ آئے تو ضرور ہم تمہیں ان کے خلاف اکسائیں گے پھر وہ مدینہ میں تمہارے پاس نہ رہیں گے مگر تھوڑے دن۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاگر باز نہ آئے منافق اور جن کے دلوں میں روگ ہے اور مدینہ میں جھوٹ اڑانے والے تو ضرور ہم تمہیں ان پر شہ دیں گے پھر وہ مدینہ میں تمہارے پاس نہ رہیں گے مگر تھوڑے دن۔
Tafseer (Urdu)
{لىن لم ینته المنفقون: اگر منافق بازنہ ائے۔} اس ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ لوگ جو منافق ہیں اور وہ لوگ جو فاجر و بدکار ہیں اور وہ لوگ جو مدینے میں اسلامی لشکروں کے متعلق جھوٹی خبریں اڑانے والے ہیں اور یہ مشہور کیا کرتے ہیں کہ مسلمانوں کو شکست ہوگئی وہ قتل کر ڈالے گئے دشمن چڑھا چلا آ رہا ہے اور اس سے ان کا مقصد مسلمانوں کی دل شکنی اور ان کو پریشانی میں ڈالنا ہوتا ہے اگر یہ لوگ اپنے نفاقبدکاری اور دیگر حرکتوں سے باز نہ آئے تو ضرور ہم مسلمانوں کو ان کے خلاف کاروائی کرنے کی اجازت دے دیں گے اور مسلمانوں کو ان پر مسلط کردیں گے پھر وہ مدینہ میں تمہارے پاس تھوڑے دن ہی رہیں گے پھر ان سے مدینہ طیبہ خالی کرا لیا جائے گا اور وہ لوگ وہاں سے نکال دیئے جائیں گے۔( خازن الاحزاب تحت الایۃ: ۶۰ ۳ / ۵۱۲ مدارک الاحزاب تحت الایۃ: ۶۰ ص۹۵۱ ملتقطا) غلط خبریں پھیلاکر مسلمانوں کی حوصلہ شکنی کرنے والے دل کے منافقوں کی حالت کو اج کے دور میں اسانی سے سمجھنا ہو تو چند دن اخبار پڑھ کر دیکھ لیں کہ مغرب کے غلام لکھاری مسلمانوں کو اپنے مغربی اقاوں سے ڈرانے کیلئے ان کی طاقت ترقی تہذیب کو کیسے بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں اور مسلمانوں کی طاقت تہذیب اور ماضی وحال کو کس طرح تاریک بنا کر پیش کرتے ہیں ۔ {ملعونین: اللہ کی رحمت سے دورکئے ہوئے لوگ ہیں ۔} یعنی منافقین اللہ تعالی کی رحمت سے دور کئے ہوئے لوگ ہیں اگر یہ اپنے نفاق اور جھوٹی خبریں اڑانے پر قائم رہیں تو یہ تمہیں جہاں بھی مل جائیں انہیں پکڑ لو اور گن گن کر انہیں قتل کردو۔( جلالین مع جمل الاحزاب تحت الایۃ: ۶۱ ۶ / ۱۹۹) {سنة الله فی الذین خلوا من قبل: اللہ کا دستور چلا آتا ہے ان لوگوں میں جو پہلے گزر گئے۔} یعنی ان منافقوں کے بارے میں جو حکم دیا گیاوہ کوئی نیا حکم نہیں ہے بلکہ پہلی امتوں کے منافقین جو ایسی حرکتیں کرتے تھے ان کے لئے بھی اللہ تعالی کا دستور یہی رہا ہے کہ جہاں پائے جائیں مار ڈالے جائیں اور اللہ تعالی کا دستور تبدیل نہیں ہوتا بلکہ وہ تمام امتوں میں ایک ہی طرح جاری رہتا ہے۔ (تفسیرکبیر الاحزاب تحت الایۃ: ۶۲ ۹ / ۱۸۴ خازن الاحزاب تحت الایۃ: ۶۲ ۳ / ۵۱۲ مدارک الاحزاب تحت الایۃ: ۶۲ ص۹۵۱ ملتقطا)