Surah Fatir Ayat 32 (35:32)
Originator · Juz 22 · Makki
ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَاۚ-فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖۚ-وَ مِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌۚ-وَ مِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَیْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِؕ-ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُﭤ 32
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariپھر ہم نے کتاب کا وارث اپنے چُنے ہوئے بندوں کو کیا تو ان میں کوئی اپنی جان پر ظلم کرنے والا ہے اور ان میں کوئی درمیانہ راستہ اختیار کرنے والا ہے اور ان میں کوئی وہ ہے جو اللہ کے حکم سے بھلائیوں میں سبقت لے جانے والا ہے۔ یہ ہی بڑا فضل ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanپھر ہم نے کتاب کا وارث کیا اپنے چنے ہوئے بندوں کو تو ان میں کوئی اپنی جان پر ظلم کرتا ہے اور اُن میں کوئی میانہ چال پر ہے اور ان میں کوئی وہ ہے جو اللہ کے حکم سے بھلائیوں میں سبقت لے گیا یہی بڑا فضل ہے۔
Tafseer (Urdu)
{ثم اورثنا الكتب الذین اصطفینا من عبادنا: پھر ہم نے کتاب کا وارث اپنے چنے ہوئے بندوں کو کیا۔} یعنی اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہم نے اپ کی طرف قران مجید کی وحی فرمائی پھر ہم نے اپنے چنے ہوئے بندوں کو اس کتاب کا وارث کیا۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں : چنے ہوئے بندوں سے مراد نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی امت ہے کیونکہ اللہ تعالی نے انہیں تمام امتوں پر فضیلت دی اورسید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی غلامی و نیاز مندی کی کرامت و شرافت سے مشرف فرمایا ۔ (خازن فاطر تحت الایۃ: ۳۲ ۳ / ۵۳۵) { فمنهم ظالم لنفسه: تو ان میں کوئی اپنی جان پر ظلم کرنے والا ہے۔} ایت کے اس حصے سے حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی امت کے لوگوں کے تین مدارج اور مراتب بیان کئے گئے ہیں (1)کوئی اپنی جان پر ظلم کرنے والا ہے۔(2) کوئی درمیانہ راستہ اختیار کرنے والا ہے ۔(3) کوئی وہ ہے جو اللہ تعالی کے حکم سے بھلائیوں میں سبقت لے جانے والا ہے۔ان تینوں کے مصداق کے بارے میں مفسرین کے کثیر اقوال ہیں جو کہ تفاسیر میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہیں یہاں ان میں سے ایک قول درج کیا جاتا ہے۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا کہ سبقت لے جانے والے عہد رسالت کے وہ مخلص حضرات ہیں جن کے لئے رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے جنت اور رزق کی بشارت دی اور درمیانہ راستہ اختیار کرنے والے وہ اصحاب ہیں جو آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے طریقہ پر عمل کرتے رہے اور اپنی جان پر ظلم کرنے والے ہم تم جیسے لوگ ہیں ۔ (المطالب العالیۃ کتاب التفسیر ۳۰-سورۃ فاطر ۸ / ۲۶۳ الحدیث: ۳۷۰۰) یہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کی طرف سے انتہائی انکساری کا اظہار تھا کہ اتنے اعلی مقام پر فائز ہونے کے باوجود اپ رضی اللہ تعالی عنہا نے اپنے اپ کو تیسرے طبقے میں شمار فرمایا ۔ یہاں ان تین مدارج کے افراد سے متعلق دو احادیث بھی ملاحظہ ہوں چنانچہ ایک حدیث شریف میں ہے حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشادفرمایا کہ’’ ہمارا سبقت لے جانے والا تو سبقت لے جانے والا ہی ہے اور درمیانہ راستہ اختیار کرنے والے کی نجات ہے جبکہ ظالم کی مغفرت ہے۔( کنز العمال کتاب الاذکار قسم الاقوال الباب السابع الفصل الرابع ۱ / ۶ الجزء الثانی الحدیث: ۲۹۲۲) اوردوسری حدیث میں ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ’’نیکیوں میں سبقت لے جانے والا جنت میں بے حساب داخل ہوگا اور مقتصد سے حساب میں آسانی کی جائے گی اور ظالم مقام حساب میں روکا جائے گا اس کو پریشانی پیش آئے گی پھر وہ جنت میں داخل ہوگا۔ (بغوی فاطر تحت الایۃ: ۳۲ ۳ / ۴۹۳) {ذلك هو الفضل الكبیر: یہ ہی بڑا فضل ہے۔} یعنی نیکیوں میں دوسروں سے اگے بڑھ جانا ہی اللہ تعالی کا بڑا فضل ہے اور یہ صرف اسی کی توفیق سے ملتا ہے۔بعض مفسرین نے ا س ایت کی تفسیر میں فرمایا کہ چنے ہوئے بندوں کو کتاب کا وارث بنانا ہی اللہ تعالی کا بڑا فضل ہے ۔ (ابو سعود فاطر تحت الایۃ: ۳۲ ۴ / ۳۷۰ خازن فاطر تحت الایۃ: ۳۲ ۳ / ۵۳۶ ملتقطا)