Surah Fatir Ayat 5 (35:5)
Originator · Juz 22 · Makki
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاٙ-وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ 5
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاے لوگو!بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے تو ہرگز دنیا کی زندگی تمہیں دھوکا نہ دے اور ہرگز بڑا فریبی تمہیں اللہ کے بارے میں فریب نہ دے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاے لوگو! بے شک اللہ کا وعدہ سچ ہے تو ہرگز تمہیں دھوکا نہ دے دنیا کی زندگی اور ہرگز تمہیں اللہ کے حِلم پر فریب نہ دے وہ بڑا فریبی۔
Tafseer (Urdu)
{یایها الناس ان وعد الله حق: اے لوگو!بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے۔} اس ایت میں اللہ تعالی نے نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اے لوگو!بیشک اللہ تعالی کا وعدہ سچا ہےقیامت ضرور آنی ہے مرنے کے بعد ضرو راٹھنا ہے اعمال کا حساب یقینا ہوگا اورہر ایک کو اس کے کئے کی جزاء بے شک ملے گیتو ہرگز دنیا کی زندگی تمہیں دھوکا نہ دے کہ اس کی لذتوں میں مشغول ہو کر تم آخرت کو بھول جاؤ۔( خازن فاطر تحت الایۃ: ۵ ۳ / ۵۲۹-۵۳۰ ابو سعود فاطر تحت الایۃ: ۵ ۴ / ۳۶۲ ملتقطا) دنیا کی زندگی سے دھوکا نہ کھائیں : دنیا کی زندگی کے بارے میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’اعلموا انما الحیوة الدنیا لعب و لهو و زینة و تفاخر بینكم و تكاثر فی الاموال و الاولاد-كمثل غیث اعجب الكفار نباته ثم یهیج فترىه مصفرا ثم یكون حطاما-و فی الاخرة عذاب شدید-و مغفرة من الله و رضوان-و ما الحیوة الدنیا الا متاع الغرور‘‘(حدید:۲۰) ترجمہ کنزالعرفان: جان لو کہ دنیا کی زندگی توصرف کھیل کود اور زینت اور اپس میں فخرو غرور کرنا اور مال اور اولاد میں ایک دوسرے پر زیادتی چاہنا ہے۔ (دنیا کی زندگی ایسی ہے) جیسے وہ بارش جس کا اگایا ہوا سبزہ کسانوں کو اچھا لگتا ہے پھر وہ سبزہ سوکھ جاتا ہے تو تم اسے زرد دیکھتے ہو پھر وہ پامال کیا ہوا (بے کار) ہوجاتا ہے اور آخرت میں سخت عذاب (بھی) ہے اور اللہ کی طرف سے بخشش اور اس کی رضا (بھی) اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کا سامان ہے۔ اور ارشاد فرماتا ہے: ’’كل نفس ذآىقة الموت-و انما توفون اجوركم یوم القیمة-فمن زحزح عن النار و ادخل الجنة فقد فاز-و ما الحیوة الدنیا الا متاع الغرور‘‘(ال عمران:۱۸۵) ترجمہ کنزالعرفان: ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے اور قیامت کے دن تمہیں تمہارے اجر پورے پورے دئیے جائیں گے توجسے آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا تو وہ کامیاب ہوگیا اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کا سامان ہے۔ اوردنیا کی زندگی سے دھوکہ نہ کھانے کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے: ’’یایها الناس اتقوا ربكم و اخشوا یوما لا یجزی والد عن ولده-و لا مولود هو جاز عن والده شیــٴـا-ان وعد الله حق فلا تغرنكم الحیوة الدنیا-و لا یغرنكم بالله الغرور‘‘(لقمان:۳۳) ترجمہ کنزالعرفان: اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو جس میں کوئی باپ اپنی اولاد کے کام نہ آئے گا اور نہ کوئی بچہ اپنے باپ کو کچھ نفع دینے والا ہوگا۔ بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے تو دنیا کی زندگی ہرگز تمہیں دھوکا نہ دے اور ہرگز بڑا دھوکہ دینے والا تمہیں اللہ کے علم پر دھوکے میں نہ ڈالے۔ لہذا مسلمانوں کو چاہئے کہ دنیا کی رنگینیوں اور اس کی لذتوں میں کھونے کی بجائے اپنی اخرت کی تیاری میں مصروف رہیں ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے میرا کندھا پکڑ کر فرمایا’’ دنیا میں یوں رہو گویا تم مسافر ہو یا راہ چلتے ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے تھے کہ جب تم شام پالو تو صبح کے منتظر نہ رہو اور جب صبح پالو تو شام کی امید نہ رکھو اور اپنی تندرستی سے بیماری کے لیے اور زندگی سے موت کے لیے کچھ توشہ لے لو ۔( بخاری کتاب الرقاق باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم: کن فی الدنیا۔۔۔ الخ ۴ / ۲۲۳ الحدیث: ۴۶۱۶) اللہ تعالی ہمیں دنیا کی حقیقت کو سمجھنے اور اس کی رنگینیوں سے دھوکہ نہ کھانے کی توفیق عطا فرمائےامین۔ {و لا یغرنكم بالله الغرور: اور ہرگزوہ بڑا فریبی تمہیں اللہ تعالی کے بارے میں فریب نہ دے۔} یعنی گناہوں پر اصرار کے باوجود شیطان تمہارے دلوں میں یہ وسوسہ ڈال کر اللہ تعالی کے عفو و کرم کے بارے میں تمہیں ہر گز فریب نہ دے کہ تم جو چاہو عمل کرو اللہ تعالی بخشنے والا ہے وہ تمہارے تمام گناہوں کو بخش دے گا۔بے شک گناہگار کی مغفرت ہو جانا ممکن ہے لیکن مغفرت کی امید پر گناہ کرنا ایسے ہے جیسے ناساز طبیعت کے درست ہونے کی امید پر زہر کھانا۔( تفسیر ابو سعود فاطر تحت الایۃ: ۵ ۴ / ۳۶۲) صدر الافاضل مفتی نعیم الدین مراد ابادی رحمۃاللہ تعالی علیہ اس ایت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : ’’شیطان تمہارے دلوں میں یہ وسوسہ ڈال کر( تمہیں اللہ تعالی کے بارے میں ہر گزفریب نہ دے)کہ گناہوں سے مزہ اٹھا لو اللہ تعالی حلم فرمانے والا ہے وہ درگزر کرے گا ۔اللہ تعالی بے شک حلم والا ہے لیکن شیطان کی فریب کاری یہ ہے کہ وہ بندوں کو اس طرح توبہ وعمل صالح سے روکتا ہے اور گناہ و معصیت پر جری کرتا ہے اس کے فریب سے ہوشیار رہو۔(خزائن العرفان فاطر تحت الایۃ: ۵ ص۸۰۸) گناہوں اورامید سے متعلق مسلمانوں کا حال: فی زمانہ مسلمانوں کی عمومی حالت یہ ہے کہ وہ طرح طرح کے گناہوں میں مصروف ہیں اور قران پاک کی ایات اور تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی احادیث سناسنا کر سمجھانے کے باوجود بھی نیک اعمال کی طرف راغب ہوتے ہیں اور نہ ہی گناہوں سے تائب ہوتے ہیں بلکہ بعض بے باک تو گناہ سے باز انے کی بجائے یہ کہہ گزرتے ہیں کہ ہم گناہ کر رہے تو کیا ہوا ہم اللہ تعالی کی عبادت نہیں کرتے تو کوئی بات نہیں اللہ تعالی بڑا بخشنے والا ہے وہ ہمیں بخش دے گا اور بعض لوگ یہ سوچ کر گناہ کرتے ہیں کہ ہم بعد میں توبہ کر لیں گے یونہی بعض مسلمان فرائض کی بجا اوری اور حرام و ممنوع کاموں سے بچنے میں تو انتہائی غفلت اور لاپرواہی کا شکار ہیں جبکہ مستحب کاموں کو نجات کا ذریعہ سمجھ کر ان کے انتہائی پابند ہیں حالانکہ فرائض مقدم ہیں ۔اللہ تعالی انہیں ہدایت اور عقل سلیم عطا فرمائے امین۔