Surah Yasin Ayat 30 (36:30)
Ya-Sin · Juz 23 · Makki
یٰحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِۣۚ-مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ 30
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attari۔ (اور کہا گیا کہ) ہائے افسوس ان بندوں پرکہ ان کے پاس کوئی رسول آتا ہے تو اس سے ٹھٹھا مذاق ہی کرتے ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور کہا گیا کہ ہائے افسوس ان بندوں پر جب ان کے پاس کوئی رسول آتا ہے تو اس سے ٹھٹھا ہی کرتے ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{یحسرة: ہائے افسوس۔} ممکن ہے کہ فرشتوں نے یہ کلام کیا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ مومنین کا کلام ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ کلام اللہ تعالی نے فرمایا ہوپہلی دو صورتوں میں ایت کا معنی واضح ہے اور تیسری صورت میں یہاں حسرت سے اس کا حقیقی معنی مراد نہیں ہو گا کیونکہ یہ اللہ تعالی کی شان کے لائق نہیں بلکہ یہاں معنی یہ ہو گا حضرت حبیب رحمۃاللہ تعالی علیہ کی قوم کے لوگ اور ان کے جیسے وہ لوگ جو اللہ تعالی کے رسولوں علیہم الصلوۃ والسلام کو جھٹلانے کی وجہ سے ہلاک ہوئے یہ اس بات کے حق دار ہیں کہ حسرت کرنے والے ان پر حسرت کریں اور افسوس کرنے والے ان کے حال پر افسوس کریں کیونکہ ان کا حال یہ تھا کہ جب بھی ان کے پاس اللہ تعالی کی طرف سے کوئی رسول تشریف لائے تو یہ اس سے ٹھٹھا مذاق ہی کرتے تھے ۔( جلالین مع جمل یس تحت الایۃ: ۳۰ ۶ / ۲۸۷ مدارک یس تحت الایۃ: ۳۰ ص۹۸۷ ملتقطا) نوٹ:اس ایت کی تفسیر میں مفسرین کے اور اقوال بھی تفاسیر میں موجود ہیں ان کی معلومات حاصل کرنے کے لئے علماء کرام عربی تفاسیر کی طرف رجوع فرمائیں ۔