Surah Yasin Ayat 31 (36:31)
Ya-Sin · Juz 23 · Makki
اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ اَنَّهُمْ اِلَیْهِمْ لَا یَرْجِعُوْنَﭤ 31
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariکیا انہوں نے نہ دیکھاکہ ہم نے ان سے پہلے کتنی قومیں ہلاک کردیں کہ وہ اب ان کی طرف پلٹنے والے نہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکیا انہوں نے نہ دیکھا ہم نے ان سے پہلے کتنی سنگتیں ہلاک فرمائیں کہ وہ اب ان کی طرف پلٹنے والے نہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{الم یروا: کیا انہوں نے نہ دیکھا۔} سابقہ لوگوں کا حال بیان کرنے کے بعد یہاں سے سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے زمانے میں موجود لوگوں سے کلام کیا جا رہاہے چنانچہ ارشاد فرمایا کہ کفار مکہ جو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و الہ وسلم کی تکذیب کرتے ہیں کیا انہوں نے نہ دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی قومیں ہلاک کردیں اوران کا حال یہ ہے کہ اب وہ دنیا کی طرف لوٹنے والے نہیں ۔توکیا یہ لوگ ان کے حال سے عبرت حاصل نہیں کرتے۔( تفسیرکبیر یس تحت الایۃ: ۳۱ ۹ / ۲۷۰-۲۷۱ خازن یس تحت الایۃ: ۳۱ ۴ / ۶ ملتقطا) ایت ’’الم یروا كم اهلكنا قبلهم‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات: اس ایت سے دو باتیں معلوم ہوئیں : (1)…اس ایت میں اواگون کی نفیس تردید ہے یعنی ہندووں کے اعتقاد کے مطابق بار بار مرنے اور جنم لینے کا سلسلہ باطل ہے کیونکہ ایک بار مرنے کے بعد کوئی دوبارہ پلٹ کر دنیا میں نہیں ائے گا۔ (2)… یہ بھی معلوم ہو اکہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی امت پر اللہ تعالی کا بڑا فضل وکرم ہے کہ اس نے اسے اخری امت بنایا تاکہ اس امت کے لوگ سابقہ امتوں سے عبرت اور نصیحت حاصل کریں اور یہ کسی اور امت کے لئے عبرت و نصیحت نہ ہوں ۔ {و ان كل: اور جتنے بھی ہیں ۔} یعنی تمام امتیں قیامت کے دن دوبارہ زندہ کئے جانے کے بعد حساب اور جزاء کے لئے ہماری بارگاہ میں حاضر کی جائیں گی اور ہم انہیں ان کے اچھے برے تمام اعمال کی جزا دیں گے۔( جلالین یس تحت الایۃ: ۳۲ ص۳۷۰ خازن یس تحت الایۃ: ۳۲ ۴ / ۶ ابن کثیر یس تحت الایۃ: ۳۲ ۶ / ۵۱۰ ملتقطا)