Surah Yasin Ayat 38 (36:38)
Ya-Sin · Juz 23 · Makki
وَ الشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَاؕ-ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِﭤ 38
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور سورج اپنے ٹھہرنے کے وقت تک چلتا رہے گا، یہ زبردست، علم والے کا مقرر کیا ہوا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور سورج چلتا ہے اپنے ایک ٹھہراؤ کے لیے یہ حکم ہے زبردست علم والے کا۔
Tafseer (Urdu)
{و الشمس تجری لمستقر لها: اور سورج اپنے ٹھہرنے کے وقت تک چلتا رہے گا۔} یعنی اللہ تعالی کی قدرت کا انکار کرنے والوں کے لئے ا س کی عظیم قدرت اور انتہاء کو پہنچی ہوئی حکمت پر دلالت کرنے والی ایک نشانی سورج ہے اور یہ نشانی اس طرح ہے کہ سورج اپنے ٹھہرنے کے وقت تک چلتا رہے گا۔اس کا ایک معنی یہ ہے کہ جس وقت تک سورج کے چلنے کی انتہا مقرر فرمائی گئی ہے اس وقت تک وہ چلتا ہی رہے گا اور وہ انتہائی وقت قیامت کا دن ہے۔دوسرا معنی یہ ہے کہ سورج اپنی منزلوں میں چلتا ہے اور جب سب سے دور والے مغرب میں پہنچتا ہے تو پھر لوٹ پڑتا ہے کیونکہ یہی اس کا مستقر ہے اورسورج کا اس طرح چلتے رہنا اس اللہ تعالی کے حکم سے ہے جو اپنی سلطنت میں زبردست اور اپنی تمام مخلوقات کا علم رکھنے والا ہے اور اس کی قدرت بھی کامل ہے تو جس کی یہ شان ہے وہی واحد معبود ہے اور وہ مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر قدرت بھی رکھتا ہے ۔( روح البیان یس تحت الایۃ: ۳۸ ۷ / ۳۹۷ خازن یس تحت الایۃ: ۳۸ ۴ / ۷ جلالین یس تحت الایۃ: ۳۸ ص۳۷۰ ملتقطا)