Surah Yasin Ayat 41 (36:41)
Ya-Sin · Juz 23 · Makki
وَ اٰیَةٌ لَّهُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّیَّتَهُمْ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِ 41
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور ان کے لیے ایک نشانی یہ ہے کہ ہم نے ان کی نسلوں کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور ان کے لیے ایک نشانی یہ ہے کہ انہیں ان کے بزرگوں کی پیٹھ میں ہم نے بھری کشتی میں سوار کیا۔
Tafseer (Urdu)
{و ایة لهم: اور ان کے لیے ایک نشانی یہ ہے۔} اس سے پہلی ایات میں زمینی اور اسمانی مخلوقات میں اللہ تعالی کی قدرت کے مظاہر کا ذکر ہوا اور اب یہاں سے بحری مخلوقات میں اللہ تعالی کی قدرت کے مظاہر بیان کئے جا رہے ہیں چنانچہ ارشاد فرمایا :لوگوں کے لیے اللہ تعالی کی قدرت پر دلالت کرنے والی ایک عظیم نشانی یہ بھی ہے کہ ہم نے ان کی ذریت (یعنی نسل) کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا۔ذریت کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ اس ایت میں ذریت سے مراد کفار مکہ کی اولادیں ہیں جنہیں وہ تجارت کے لئے بھیجا کرتے تھے اور جس کشتی میں وہ سوار ہوتے تھے وہ سامان اور اسباب وغیرہ سے بھری ہوئی ہوتی تھی۔دوسرا قول یہ ہے کہ اس ایت میں جس کشتی کا ذکر ہے اس سے مراد حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کی کشتی ہے جس میں مکہ والوں کے اباو اجداد سوار کئے گئے تھے اور یہ ان کی ذریت (ذرات کی شکل میں) ان کی پشت میں تھی اور حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کی کشتی سامان اور اسباب وغیرہ سے بھری ہوئی تھی۔( روح البیان یس تحت الایۃ: ۴۱ ۷ / ۴۰۳ ابو سعود یس تحت الایۃ: ۴۱ ۴ / ۳۸۶ ملتقطا) اور یہ نشانی اس طرح ہے کہ وزنی چیز پانی میں ڈوب جاتی ہے لیکن کشتی انتہائی وزنی ہونے کے باوجود ڈوبتی نہیں بلکہ سینکڑوں افراد اور ٹنوں کے حساب سے وزن اٹھا کر بھی پانی کی سطح پر چلتی رہتی ہے کیونکہ خدا نے یہ نظام ایسے ہی بنایا ہے۔ {و خلقنا لهم: اور ہم نے ان کے لیے بنادیں ۔} یعنی ہم نے مکہ والوں کے لیے صورت اور شکل میں حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کی کشتی جیسی ہی کشتیاں بنادیں جن پر وہ سمندری سفر کے دوران سوار ہوتے ہیں ۔( روح البیان یس تحت الایۃ: ۴۲ ۷ / ۴۰۴ سمرقندی یس تحت الایۃ: ۴۲ ۳ / ۱۰۱ ملتقطا)