Surah Yasin Ayat 69 (36:69)
Ya-Sin · Juz 23 · Makki
وَ مَا عَلَّمْنٰهُ الشِّعْرَ وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لَهٗؕ-اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ وَّ قُرْاٰنٌ مُّبِیْنٌ 69
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور ہم نے نبی کو شعر کہنا نہ سکھایا اور نہ وہ ان کی شان کے لائق ہے وہ تو نہیں مگر نصیحت اور روشن قرآن۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور ہم نے ان کو شعر کہنا نہ سکھایا اور نہ وہ ان کی شان کے لائق ہے وہ تو نہیں مگر نصیحت اور روشن قرآن۔
Tafseer (Urdu)
{و ما علمنه الشعر: اور ہم نے نبی کو شعر کہنا نہ سکھایا۔} اس ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو نہ شعر گوئی کا ملکہ دیا ہے اور نہ قران مجید شعر کی تعلیم ہے اور نہ ہی شعر کہنا میرے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی شان کے لائق ہے اور قران کریم کی شان تو یہ ہے کہ وہ صاف صریح حق و ہدایت ہے توکہاں وہ تمام علوم کی جامع پاک آسمانی کتاب اور کہاں شعر جیسا جھوٹاکلام ان میں نسبت ہی کیا ہے۔ شان نزول:کفار قریش نے کہا تھا کہ محمد (مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم) شاعر ہیں اور جو وہ فرماتے ہیں یعنی قرآن پاک وہ شعر ہے اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ (معاذ اللہ) یہ کلام جھوٹا ہے جیسا کہ قرآن کریم میں ا ن کا مقولہ نقل فرمایا گیا ہے کہ ’’بل افترىه بل هو شاعر ‘‘(الانبیاء:۵) ترجمہ کنزالعرفان: بلکہ خود اس (نبی) نے اپنی طرف سے بنالیا ہے بلکہ یہ شاعر ہیں ۔ اسی کا اس آیت میں رد فرمایا گیا ہے کہ ہم نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو ایسی باطل گوئی کا ملکہ ہی نہیں دیا اور یہ کتاب اشعار یعنی جھوٹی باتوں پر مشتمل نہیں کفار قریش زبان سے ایسے بدذوق اور نظم عروضی سے ایسے ناواقف نہ تھے کہ نثر کو نظم کہہ دیتے اور کلام پاک کو شعر عروضی بتا بیٹھتے اور کلام کا محض وزن عروضی پر ہونا ایسا بھی نہ تھا کہ اس پر اعتراض کیا جا سکے اس سے ثابت ہو گیا کہ ان بے دینوں کی شعر سے مراد جھوٹا کلام تھی۔( مدارک یس تحت الایۃ: ۶۹ ص۹۹۳ جمل یس تحت الایۃ: ۶۹ ۶ / ۳۰۷ روح البیان یس تحت الایۃ: ۶۹ ۷ / ۴۳۱ خزائن العرفان یس تحت الایۃ: ۶۹ ص۸۲۳ ملتقطا) نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو اولین واخرین کے علوم تعلیم فرمائے گئے ہیں: صدر الافاضل مولانانعیم الدین مراد ابادی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : اس آیت میں اشارہ ہے کہ حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو اللہ تعالی کی طرف سے علوم اولین واخرین تعلیم فرمائے گئے جن سے کشف حقائق ہوتا ہے اور آپ کی معلومات واقعی نفس الامری ہیں کذب شعری نہیں جو حقیقت میں جہل ہے وہ آپ کی شان کے لائق نہیں اور آپ کا دامن تقدس اس سے پاک ہے ۔ اس میں شعر بمعنی کلام موزون کے جاننے اور اس کے صحیح و سقیم جید و ردی کو پہچاننے کی نفی نہیں ۔ علم نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم میں طعن کرنے والوں کے لئے یہ آیت کسی طرح سند نہیں ہو سکتی اللہ تعالی نے حضور (صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم) کو علوم کائنات عطا فرمائے اس کے انکار میں اس آیت کو پیش کرنا محض غلط ہے۔(خزائن العرفان یس تحت الایۃ: ۶۹ ص۸۲۳)