Surah Yasin Ayat 70 (36:70)
Ya-Sin · Juz 23 · Makki
لِّیُنْذِرَ مَنْ كَانَ حَیًّا وَّ یَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ 70
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتاکہ وہ ہر ایسے شخص کوڈرائے جو زندہ ہو اور کافروں پر بات ثابت ہوجائے ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکہ اسے ڈرائے جو زندہ ہو اور کافروں پر بات ثابت ہوجائے۔
Tafseer (Urdu)
{لینذر من كان حیا: تاکہ وہ ہر ایسے شخص کو ڈرائے جو زندہ ہو۔} مفسرین کا ایک قول یہ ہے کہ یہاں ڈرانے والے سے مراد نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد قران مجید ہےاورزندہ سے مراد وہ شخص ہے جو دل کا زندہ ہو اور کلام و خطاب کو سمجھتا ہے یہ مومن کی شان ہے ۔ اس صورت میں ایت کا معنی یہ ہوگا: قران پاک نصیحت اور روشن قرآن ہے تا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم یا قران مومن کو گناہوں پر ہونے والے عذاب سے ڈرائیں (تاکہ وہ گناہوں سے باز رہے) اور کفر پر قائم رہنے والے کافروں پر عذاب کی بات ثابت ہو جائے۔ اس میں اشارہ ہے کہ جس دل میں اللہ تعالی کی معرفت کا نور ہو وہی دل زندہ ہوتا ہے اور اسی کو اللہ تعالی کے عذاب سے ڈرانا فائدہ مند ہوتا ہےوہی اس ڈرانے کا اثر قبول کرتا ہے اور دنیا سے اعراض کر کے اخرت اور اپنے پرودرگار کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔بعض مفسرین نے فرمایا کہ زندہ سے مراد وہ شخص ہے جو اللہ تعالی کے علم میں ایمان لانے والا ہے کیونکہ ہمیشہ کی کامیاب زندگی تو صرف ایمان سے حاصل ہوتی ہے یعنی جو شخص اللہ تعالی کے علم میں ایمان والا ہے اس کا ایمان ایسے ہے جیسے بدن کے لئے زندگی کیونکہ ایمان ابدی زندگی حاصل ہونے کا سبب ہے۔اس صورت میں ایت کا معنی یہ ہوگا:قران پاک نصیحت اور روشن قرآن ہے تا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم یا قران اسے عذاب سے ڈرائیں جو اللہ تعالی کے علم میں ایمان لانے والا ہے تاکہ وہ ایمان لے ائے اور کفر پر قائم رہنے والے کافروں پر عذاب کی بات ثابت ہو جائے۔( تفسیرکبیر یس تحت الایۃ: ۷۰ ۹ / ۳۰۵ جلالین یس تحت الایۃ: ۷۰ ص۳۷۲ روح البیان یس تحت الایۃ: ۷۰ ۷ / ۴۳۲ ملتقطا)