Surah Yasin Ayat 77 (36:77)
Ya-Sin · Juz 23 · Makki
اَوَ لَمْ یَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ 77
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور کیا آدمی نے نہ دیکھا کہ ہم نے اسے ایک بوند سے بنایا پھر تب ہی وہ کھلم کھلاجھگڑا کرنے والا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور کیا آدمی نے نہ دیکھا کہ ہم نے اسے پانی کی بوند سے بنایا جبھی وہ صریح جھگڑالو ہے۔
Tafseer (Urdu)
{او لم یر الانسان: اور کیا آدمی نے نہ دیکھا۔} شان نزول:یہ آیت عاص بن وائل یا ابوجہل اور مشہور قول کے مطابق ابی بن خلف کے بارے میں نازل ہوئی جو مرنے کے بعد اٹھنے کے انکار میں سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے بحث و تکرار کرنے آیا تھا اس کے ہاتھ میں ایک گلی ہوئی ہڈی تھیوہ اس کو توڑتا جاتا اور حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے کہتا جاتا تھا کہ کیا آپ کا یہ خیال ہے کہ اس ہڈی کو گل جانے اور ریزہ ریزہ ہو جانے کے بعد بھی اللہ تعالی زندہ کرے گا حضور انور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشادفرمایا ’’ہاں ! اور تجھے بھی مرنے کے بعد اٹھائے گا اور جہنم میں داخل فرمائے گا۔ اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور اس کی جہالت کا اظہار فرمایا گیا چنانچہ اس ایت اور اس کے بعد والی دو ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ جو انسان گلی ہوئی ہڈی کا بکھرنے کے بعد اللہ تعالی کی قدرت سے زندگی قبول کرنااپنی نادانی سے ناممکن سمجھتا ہے وہ کتنا احمق ہے اپنے آپ کو نہیں دیکھتا کہ ابتدا میں ایک گندہ نطفہ تھا جو کہ گلی ہوئی ہڈی سے بھی حقیر تر ہے اللہ تعالی کی قدرت کاملہ نے اس میں جان ڈالی انسان بنایا تو ایسا مغرور و متکبر انسان ہوا کہ اللہ تعالی کی قدرت ہی کا منکر ہو کر جھگڑنے آ گیا اتنا نہیں دیکھتا کہ جو قادر برحق پانی کی بوند کوایک قوی اور طاقتورانسان کی صورت بنا دیتا ہے اس کی قدرت سے گلی ہوئی ہڈی کو دوبارہ زندگی بخش دینا کیا بعید ہے اور اس کو ناممکن سمجھنا کتنی کھلی ہوئی جہالت ہے اور وہ گلی ہوئی ہڈی کو ہاتھ سے مل کر ہمارے لئے مثال دیتا ہے کہ یہ ہڈی تو ایسی بکھری ہوئی ہے یہ کیسے زندہ ہو گی اوریہ کہتے ہوئے اپنی پیدائش کوبھول گیا کہ منی کے قطرے سے پیدا کیاگیا ہے۔ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ ا س سے فرما دیں کہ ان ہڈیوں کو وہ زندہ کرے گا جس نے پہلی بار انہیں بنایا اور وہ پہلی اور بعد والی ہر پیدائش کو جاننے والاہے اور جب اس کا علم بھی کامل ہے قدرت بھی کامل تو پھر تمہیں دوبارہ زندہ کئے جانے کو ماننے میں کیوں تامل ہے۔(خازن یس تحت الایۃ: ۷۷-۷۹ ۴ / ۱۳ البحر المحیط یس تحت الایۃ: ۷۷-۷۹ ۷ / ۲۳۲ مدارک یس تحت الایۃ: ۷۷-۷۹ ص۹۹۴ ملتقطا)