Surah As Saffat Ayat 103 (37:103)
Those who set the Ranks · Juz 23 · Makki
فَلَمَّاۤ اَسْلَمَا وَ تَلَّهٗ لِلْجَبِیْنِ 103
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو جب ان دونوں نے (ہمارے حکم پر) گردن جھکادی اور باپ نے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹایا (اس وقت کا حال نہ پوچھ)۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو جب ان دونوں نے ہمارے حکم پر گردن رکھی اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹایا اس وقت کا حال نہ پوچھ۔
Tafseer (Urdu)
{فلما اسلما: تو جب ان دونوں نے (ہمارے حکم پر) گردن جھکادی۔} جب حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام اور ان کے فرزند نے اللہ تعالی کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا اور جب حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے فرزند کو ذبح کرنے کا ارادہ فرمایا تو ان کے فرزند نے عرض کی’’اے والد محترم ! اگر اپ نے مجھے ذبح کرنے کا ارادہ کر لیا ہے تو پہلے مجھے رسیوں کے ساتھ مضبوطی سے باندھ لیں تاکہ میں تڑپ نہ سکوں اور اپنے کپڑے بھی سمیٹ لیں تاکہ میرے خون کے چھینٹے اپ پر نہ پڑیں اور میرا اجر کم نہ ہو کیونکہ موت بہت سخت ہوتی ہے اور اپنی چھری کو اچھی طرح تیز کر لیں تا کہ وہ مجھ پر اسانی سے چل جائے اور جب اپ مجھے ذبح کرنے کے لئے لٹائیں تو پہلو کے بل لٹانے کی بجائے پیشانی کے بل لٹائیں کیونکہ مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ جب اپ کی نظر میرے چہرے پر پڑے گی تو ا س وقت اپ کے دل میں رقت پیدا ہو گی اور وہ رقت اللہ تعالی کے حکم کی تعمیل اور اپ کے درمیان حائل ہو سکتی ہے اور اگر اپ مناسب سمجھیں تو میری قمیص میری ماں کو دیدیں تاکہ انہیں تسلی ہو اور انہیں مجھ پر صبر ا جائے ۔حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: ’’ اے میرے بیٹے! تم اللہ تعالی کے حکم پر عمل کرنے میں میرے کتنے اچھے مددگار ثابت ہو رہے ہو۔ اس کے بعد فرزند کی خواہش کے مطابق پہلے اسے اچھی طرح باندھ دیا پھر اپنی چھری کو تیز کیا اوراپنے فرزند کومنہ کے بل لٹا کر ان کے چہرے سے نظر ہٹا لی پھر ان کے حلق پر چھری چلادی تو اللہ تعالی نے ان کے ہاتھ میں چھری کو پلٹ دیااس وقت انہیں ایک ندا کی گئی ’’اے ابراہیم ! تم نے اپنے خواب کو سچ کر دکھایا اور اپنے فرزند کو ذبح کے لئے بے دریغ پیش کر کے اطاعت وفرمانبرداری کمال کو پہنچادی بس اب اتنا کافی ہےیہ ذبیحہ تمہارے بیٹے کی طرف سے فدیہ ہے اسے ذبح کر دو۔ یہ واقعہ منی میں واقع ہوا۔( بغوی الصافات تحت الایۃ: ۱۰۳ ۴ / ۲۸-۲۹ مدارک الصافات تحت الایۃ: ۱۰۳ ص۱۰۰۶ ملتقطا) جب حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام اپنے فرزند کو ذبح کرنے کیلئے چلے تو شیطان ایک مرد کی صورت میں حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس ایا اور کہنے لگا’’کیا اپ جانتی ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام اپ کے صاحبزادے کو لے کر کہاں گئے ہیں اپ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا’’وہ اس گھاٹی میں لکڑیاں لینے کیلئے گئے ہیں ۔ شیطان نے کہا’’خدا کی قسم! ایسانہیں وہ تو اپ کے بیٹے کو ذبح کرنے کیلئے لے گئے ہیں ۔حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا’’ہر گز ایسا نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ تو اپنے فرزند پر بہت شفقت کرتے اور اس سے بڑا پیار کرتے ہیں ۔ شیطان نے کہا’’ان کا گمان یہ ہے کہ انہیں اللہ تعالی نے اس بات کا حکم دیا ہے۔حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا: ’’اگر انہیں اللہ تعالی نے حکم دیا ہے تو پھر اس سے اچھی اور کیا بات ہو سکتی ہے کہ وہ اپنے رب تعالی کی اطاعت کریں ۔یہاں سے نامراد ہو کر شیطان حضرت اسماعیل علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس پہنچا اور ان سے کہا ’’اے لڑکے!کیا تم جانتے ہو کہ اپ کے والد اپ کو کہاں لے کر جا رہے ہیں اپ علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا’’ہم اپنے اہل خانہ کے لئے اس گھاٹی سے لکڑیاں لینے جا رہے ہیں ۔ شیطان نے کہا: ’’خدا کی قسم! وہ اپ کو ذبح کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔اپ علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا’’ وہ اس چیز کا ارادہ کیوں رکھتے ہیں شیطان نے کہا’’ان کے رب تعالی نے انہیں یہ حکم دیا ہے۔ حضرت اسماعیل علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایاپھر تو انہیں اپنے رب تعالی کے حکم پر عمل کرنا چاہئے مجھے بسر و چشم یہ حکم قبول ہے۔ جب شیطان نے یہاں سے بھی منہ کی کھائی تو وہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس پہنچا اور کہنے لگے’’اے شیخ! اپ کہاں جا رہے ہیں حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: ’’اس گھاٹی میں اپنے کسی کام سے جارہا ہوں ۔ شیطان نے کہا’’اللہ کی قسم! میں سمجھتا ہوں کہ شیطان اپ کے خواب میں ایا اور ا س نے اپ کو اپنا فرزند ذبح کرنے کا حکم دیا ہے۔اس کی بات سن کر حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے پہچان لیا اور فرمایا’’اے دشمن خدا! مجھ سے دور ہٹ جا خدا کی قسم ! میں اپنے رب تعالی کے حکم کو ضرور پورا کروں گا۔یہاں سے بھی شیطان ناکام و نامراد ہی لوٹا۔( خازن والصافات تحت الایۃ: ۱۰۳ ۴ / ۲۳) غریب و سادہ و رنگیں ہے داستان حرم نہایت اس کی حسین ابتدا ہے اسماعیل