Surah As Saffat Ayat 104 (37:104)
Those who set the Ranks · Juz 23 · Makki
وَ نَادَیْنٰهُ اَنْ یّٰۤاِبْرٰهِیْمُ 104
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور ہم نے اسے ندا فرمائی کہ اے ابراہیم!۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور ہم نے اسے ندا فرمائی کہ اے ابراہیم۔
Tafseer (Urdu)
{انا كذلك نجزی المحسنین: ہم نیکی کرنے والوں کوایسا ہی صلہ دیتے ہیں ۔} اس ایت کا معنی یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام اور ان کے صاحبزادے ا س اطاعت میں نیکی کرنے والے تھے تو جس طرح ہم نے ان دونوں نیک ہستیوں کو جزا دی اسی طرح ہم ہر نیکی کرنے والے کو جز ا دیں گے۔ (تفسیرکبیر الصافات تحت الایۃ: ۱۰۵ ۹ / ۳۵۰) {ان هذا لهو البلؤا المبین: بیشک یہ ضرور کھلی ازمائش تھی۔} حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے جان مال اور وطن کی قربانیاں پہلے ہی پیش فرمادی تھیں اور اب اللہ تعالی کے حکم سے اپنے اس فرزند کو بھی قربانی کے لئے پیش کر دیا جسے اپنی اخری عمر میں بہت دعاوں کے بعد پایا جو گھر کا اجالا گود کا پالا اور انکھوں کا نور تھا اور یہ سب سے سخت ازمائش تھی۔ {و فدینه بذبح عظیم: اور ہم نے اسماعیل کے فدیے میں ایک بڑا ذبیحہ دیدیا۔} علامہ بیضاوی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں اس ذبیحہ کی شان بہت بلند ہونے کی وجہ سے اسے بڑا فرمایا گیا کیونکہ یہ اس نبی علیہ السلام کا فدیہ بنا جن کی نسل سے سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہیں۔(بیضاوی الصافات تحت الایۃ: ۱۰۷ ۵ / ۲۲)