Surah As Saffat Ayat 143 (37:143)
Those who set the Ranks · Juz 23 · Makki
فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَ 143
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔
Tafseer (Urdu)
{فلو لا انه كان من المسبحین: تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔} اس ایت اور اس کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر حضرت یونس علیہ الصلوۃ والسلام ذکر الہی کی کثرت کرنے والے اور مچھلی کے پیٹ میں ’’لا اله الا انت سبحنك ﳓ انی كنت من الظلمین‘‘ پڑھنے والے نہ ہو تے تو ضرورقیامت کے دن تک اس مچھلی کے پیٹ میں رہتے۔( خازن والصافات تحت الایۃ: ۱۴۳-۱۴۴ ۴ / ۲۷) دعا قبول ہونے کا وظیفہ: حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےنبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’مچھلی کے پیٹ میں حضرت یونس علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ دعا مانگی: ’’لا اله الا انت سبحنك ﳓ انی كنت من الظلمین‘‘ اور جو مسلمان اس کے ذریعے اللہ تعالی سے دعا مانگے گا تو اس کی دعا قبول کی جائے گی۔( ابن عساکر حرف السین فی ابائہم عمر بن سعد بن ابی وقاص۔۔۔ الخ ۴۵ / ۳۸) مفسرین فرماتے ہیں : ’’تم اسانی کے وقت اللہ تعالی کا ذکر کرو تو وہ تمہیں تمہاری سختی اور مصیبت کے وقت یاد کرے گا کیونکہ حضرت یونس علیہ الصلوۃ والسلام اللہ تعالی کے نیک بندے اور اللہ تعالی کا ذکر کرنے والے تھے جب وہ مچھلی کے پیٹ میں گئے تو اللہ تعالی نے ان کے بارے میں فرمایا: ’’ فلو لا انه كان من المسبحین(۱۴۳) للبث فی بطنه الى یوم یبعثون‘‘ ترجمہ کنزالعرفان: تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔ تو ضرور اس دن تک اس مچھلی کے پیٹ میں رہتا جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے۔ اس کے برعکس فرعون ساری زندگی تو سرکش نافرمان اور اللہ تعالی کو بھولا رہا لیکن جب وہ ڈوبنے لگا توخدا کو یاد کرکے کہنے لگا: ’’امنت انه لا اله الا الذی امنت به بنوا اسرآءیل‘‘(یونس:۹۰) ترجمہ کنزالعرفان: میں اس بات پر ایمان لایا کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں ۔ تواللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ’’ ﰰ لــٴـن و قد عصیت قبل‘‘(یونس:۹۱) ترجمہ کنزالعرفان: (اسے کہا گیا)کیا اب (ایمان لاتے ہو) حالانکہ اس سے پہلے تو نافرمان رہا۔( تفسیرکبیر الصافات تحت الایۃ: ۱۴۳-۱۴۴ ۹ / ۳۵۷) {فنبذنه بالعرآء: پھر ہم نے اسے میدان میں ڈال دیا۔} جب حضرت یونس علیہ الصلوۃ والسلام نے دعا مانگی تواللہ تعالی نے انہیں مچھلی کے پیٹ سے نکال کر میدان میں ڈال دیا اور مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی وجہ سے آپ ایسے کمزور دبلے پتلے اور نازک ہوگئے تھے جیسے بچہ پیدائش کے وقت ہوتا ہےاپ علیہ الصلوۃ والسلام کے جسم کی کھال نرم ہوگئی تھی اوربدن پر کوئی بال باقی نہ رہا تھا۔( روح البیان الصافات تحت الایۃ: ۱۴۵ ۷ / ۴۸۸) حضرت یونس علیہ الصلوۃ والسلام کے مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی مدت کے بارے میں مختلف اقوال ہیں ۔ اسی دن یا3دن یا7دن یا20دن یا40دن کے بعد اپ مچھلی کے پیٹ سے نکالے گئے ۔( جلالین الصافات تحت الایۃ: ۱۴۵ ص۳۷۸)