Surah As Saffat Ayat 26 (37:26)
Those who set the Ranks · Juz 23 · Makki
بَلْ هُمُ الْیَوْمَ مُسْتَسْلِمُوْنَ 26
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبلکہ وہ آج گردن جھکائے ہوئے ہوں گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبلکہ وہ آج گردن ڈالے ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{بل هم: بلکہ وہ۔} اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن کفارعاجز و ذلیل ہو کر گردن جھکائے ہوئے ہوں گے اور کوئی حیلہ انہیں کام نہ ائے گا۔( خازن والصافات تحت الایۃ: ۲۶ ۴ / ۱۷ ملخصا) {و اقبل بعضهم على بعض: اور ان میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوگا۔} اس ایت اور ا س کے بعد والی پانچ ایات میں قیامت کے دن کفار کا اپس میں ہونے والا مکالمہ بیان کیا گیا ہے۔اس کا خلاصہ یہ ہے کہ سردار اور ان کی پیروی کرنے والے اپس میں سوال کرتے ہوئے ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوں گے اور پیروی کرنے والے اپنے سرداروں سے کہیں گے:دنیا میں تم ہمیں اپنی طاقت اور قوت کے زور پر گمراہی پر آمادہ کرتے تھے اور ہم تمہارے خوف کی وجہ سے گمراہی کا راستہ اختیار کرنے پر مجبورہو گئے۔اس پر کفار کے سردار کہیں گے کہ’’ ہم نے تم پر کوئی زبردستی نہیں کی کہ اس کی وجہ سے تم ہماری پیروی کرنے پر مجبور ہو گئے ہوبلکہ تم پہلے ہی سے کافر اور سرکش تھے اور اپنے اختیارسے خود ہی ایمان سے اعراض کرچکے تھے۔اب ہم پر ہمارے رب عزوجل کی وہ بات ثابت ہوگئی جو اس نے فرمائی تھی کہ’’ میں ضرور جہنم کوجنوں اور انسانوں سے بھروں گا۔لہذا اس کے عذاب کا مزہ گمراہوں کو بھی اور گمراہ کرنے والوں کو بھی ضرور چکھنا ہےہم خود گمراہ تھے تو ہمارے پاس سے گمراہی ہی مل سکتی تھی تم ہمار ے پاس ائے ہی کیوں۔(خازن والصافات تحت الایۃ: ۲۷-۳۲ ۴ / ۱۷ مدارک الصافات تحت الایۃ: ۲۷-۳۲ ص۱۰۰۰ ملتقطا) نوٹ: میدان محشر میں کفار کااسی طرح کاایک مکالمہ سورہ سبا کی ایت نمبر31میں بھی گزر چکا ہے۔