Surah As Saffat Ayat 35 (37:35)
Those who set the Ranks · Juz 23 · Makki
اِنَّهُمْ كَانُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُۙ-یَسْتَكْبِرُوْنَ 35
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک جب ان سے کہا جاتا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تووہ تکبر کرتے تھے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبے شک جب ان سے کہا جاتا تھا کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہیں تو اونچے کھینچتے تھے۔
Tafseer (Urdu)
{انهم كانوا اذا قیل لهم: بیشک جب ان سے کہا جاتا تھا۔} اس ایت اور ا س کے بعد والی ایت میں کفار کے عذاب میں مبتلا ہونے کا سبب بیان کیا گیا ہے کہ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود نہیں تووہ تکبر کرتے تھے اورنہ توحید قبول کرتے اورنہ ہی اپنے شرک سے باز آتے بلکہ کہتے تھے کہ کیا ہم ایک دیوانے شاعر یعنی محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے کہنے پراپنے معبودوں کو چھوڑدیں ( خازن والصافات تحت الایۃ: ۳۵-۳۶ ۴ / ۱۷ مدارک الصافات تحت الایۃ: ۳۵-۳۶ ص۱۰۰۰ ملتقطا) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےنبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جہاد کرتا رہوں یہاں تک کہ وہ ’’لا الـہ الا اللہ‘‘ کہہ لیں اور جس نے ’’لا الـہ الا اللہ‘‘ کہہ لیا تو اس نے شرعی حق کے علاوہ اپنا مال اور اپنی جان مجھ سے بچا لی اور ان کا حساب اللہ تعالی کے ذمے ہے۔اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں (ایمان قبول کرنے سے) تکبر کرنے والوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ’’انهم كانوا اذا قیل لهم لا اله الا الله-یستكبرون‘‘ اور( جبکہ مسلمانوں کے بارے میں اسی کلمہ طیبہ کے حوالے سے )فرمایا: ’’اذ جعل الذین كفروا فی قلوبهم الحمیة حمیة الجاهلیة فانزل الله سكینته على رسوله و على المؤمنین و الزمهم كلمة التقوى و كانوا احق بها و اهلها‘‘(فتح:۲۶) ترجمہ کنزالعرفان:(اے حبیب! یاد کریں ) جب کافروں نے اپنے دلوں میں زمانہ جاہلیت کی ہٹ دھرمی جیسی ضد رکھی تو اللہ نے اپنا اطمینان اپنے رسول اور ایمان والوں پر اتارا اور پرہیزگاری کا کلمہ ان پر لازم فرمادیا اور مسلمان اس کلمہ کے زیادہ حق دار اور اس کے اہل تھے۔ اور وہ کلمہ ’’لا الـہ الا اللہ‘‘ ہے۔ (معجم الاوسط باب الالف من اسمہ: احمد ۱ / ۳۴۹ الحدیث: ۱۲۷۲)