Surah As Saffat Ayat 5 (37:5)
Those who set the Ranks · Juz 23 · Makki
رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا وَ رَبُّ الْمَشَارِقِﭤ 5
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariآسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب ہے اور مشرقوں کامالک ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanمالک آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور مالک مشرقوں کا۔
Tafseer (Urdu)
{رب السموت و الارض: آسمانوں اور زمین کامالک ہے۔} اس ایت میں بیان فرمایا کہ آسمان اور زمین اور ان کی درمیانی کائنات اور تمام حدودو جہات سب کا مالک اللہ تعالی ہی ہے تو کوئی دوسرا کس طرح عبادت کا مستحق ہوسکتا ہے لہذا وہ شریک سے منزہ ہے۔(روح البیان الصافات تحت الایۃ: ۵ ۷ / ۴۴۷ خازن والصافات تحت الایۃ: ۵ ۴ / ۱۴ ملتقطا) رب العالمین کی بارگاہ میں سید المرسلین کا مقام: یہاں ایک نکتہ قابل ذکر ہے کہ ان ایات میں اللہ تعالی نے اپنی وحدانیت اور اپنی صفات کوایات میں مذکور چیزوں کی قسم کے ساتھ بیان کیا جبکہ قران پاک میں ہی اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نبوت و رسالت کو جب بیان کیا تو کسی جگہ قران کی قسم اور کسی جگہ اپنی ربوبیت کی قسم کے ساتھ بیان فرمایا جیسا کہ سورہ یسین میں ارشاد فرمایا: ’’و القران الحكیم(۲) انك لمن المرسلین‘‘(یس:۲ ۳) ترجمہ کنزالعرفان: حکمت والے قرآن کی قسم۔بیشک تم رسولوں میں سے ہو۔ سورہ نساء میں ارشاد فرمایا:’’فلا و ربك لا یؤمنون حتى یحكموك فیما شجر بینهم‘‘(النساء:۶۵) ترجمہ کنزالعرفان: تو اے حبیب! تمہارے رب کی قسم یہ لوگ مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنے آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنالیں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا مقام بہت بلند ہے۔ {و رب المشارق: اور مشرقوں کامالک ہے۔} اس ایت میں جمع کا صیغہ ’’مشارق‘‘ ذکر کیا گیاہےاس کے بارے میں مفسر سدی کا قول ہے کہ چونکہ سورج طلوع ہونے کی 360 جگہیں ہیں اسی طرح سورج غروب ہونے کی بھی 360 جگہیں ہیں اورہر روز سورج نئی جگہ سے طلوع ہوتا اور نئی جگہ میں غروب ہوتا ہے (اس لئے یہاں جمع کا صیغہ ذکر ہوا۔)(خازن والصافات تحت الایۃ: ۵ ۴ / ۱۴) علامہ احمد صاوی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: اس ایت میں ’’مشارق‘‘ جمع کا صیغہ ہر روز کے مشرق اور مغرب کے اعتبار سے ذکر کیا گیا ہے کیونکہ سال میں سورج طلوع اور غروب ہونے کی 360جگہیں ہیں اور ہر روز سورج ان میں سے ایک مشرق سے طلوع ہوتا ہے اسی طرح ہر روز ایک مغرب میں غروب ہوتا ہے۔سور ہ رحمن کی ایت میں جو ’’المشرقین‘‘ اور ’’المغربین‘‘ تثنیہ کا صیغہ ذکر کیا گیا ہے یہ گرمیوں اور سردیوں کے موسم میں سورج طلوع اور غروب ہونے کے اعتبار سے ہے اور سورہ مزمل کی ایت میں جو ’’مشرق‘‘ اور ’’مغرب‘‘ واحد کا صیغہ ذکر کیا گیا ہے یہ ہر سال کے مشرق اور مغرب کے اعتبار سے ہے۔(صاوی الصافات تحت الایۃ: ۵ ۵ / ۱۷۳۱) علامہ علی بن محمد خازن رحمۃاللہ تعالی علیہ اور علامہ اسماعیل حقی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’ سورہ مزمل کی ایت میں ’’مشرق‘‘ اور ’’مغرب‘‘ واحد کا صیغہ ذکر کیا گیا ہے یہ اس اعتبار سے ہے کہ یہاں مشرق اور مغرب کی جہت مراد ہے۔(خازن والصافات تحت الایۃ: ۵ ۴ / ۱۴-۱۵ روح البیان الصافات تحت الایۃ: ۵ ۷ / ۴۴۷)