Surah As Saffat Ayat 97 (37:97)
Those who set the Ranks · Juz 23 · Makki
قَالُوا ابْنُوْا لَهٗ بُنْیَانًا فَاَلْقُوْهُ فِی الْجَحِیْمِ 97
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariقوم نے کہا: اس کے لیے ایک عمارت بناؤپھر اسے بھڑکتی آگ میں ڈال دو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبولے اس کے لیے ایک عمارت چنو پھر اسے بھڑکتی آگ میں ڈال دو۔
Tafseer (Urdu)
{قالوا: قوم نے کہا۔} حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا جواب سن کر وہ لوگ حیران ہوگئے اور ان سے کوئی جواب نہ بن پایا تو کہنے لگے کہ’’ اس کے لیے پتھر کی لمبی چوڑی چار دیواری بناو پھر اس کو لکڑیوں سے بھر دو اور ان میں آگ لگادو یہاں تک کہ جب آگ زور پکڑلے تو پھرانہیں بھڑکتی آگ میں ڈال دو۔( خازن والصافات تحت الایۃ: ۹۷ ۴ / ۲۱ ملتقطا) چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ و السلام کی قوم نے انہیں ایک کمرے میں بند کر دیا اور ان کے لئے لکڑیاں جمع کرنے لگ گئے اور سب نے جوش و خروش سے حصہ لیا جب انہوں نے کثیر تعداد میں لکڑیاں جمع کر کے اگ لگائی تو ا س کے شعلے اتنے بلند ہوئے کہ اگر اس طرف سے کوئی پرندہ گزرتا تو وہ اس کی تپش سے جل جاتا تھا۔جب لوگوں نے عمارت کے کنارے تک حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کو بلند کیا تو اپ علیہ الصلوۃ والسلام نے سر اٹھا کر اسمان کی طر ف دیکھا اس وقت اسمانوں زمینوں پہاڑوں اور فرشتوں نے فریاد کی: ’’اے اللہ! عزوجل تیرے نام کو بلند کرنے کی پاداش میں حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کو جلایا جا رہا ہے۔ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ’’مجھے یہ بات معلوم ہےاگر وہ تمہیں پکارے تو تم ا س کی مدد کرنا ۔جب حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے اسمان کی طرف نظر اٹھائی تو عرض کی: ’’اے اللہ! عزوجل تو واحد ہے اور میں زمین میں واحد ہوں اور زمین میں میرے علاوہ اور کوئی بندہ ایسا نہیں جو تیری عبادت کرے۔مجھے اللہ تعالی کافی ہے اور وہ بہت ہی اچھا کارساز ہے۔تب اللہ تعالی نے اگ کو حکم دیا: ’’ینار كونی بردا و سلما على ابرهیم‘‘(الانبیاء:۶۹) ترجمہ کنزالعرفان: اے آگ! ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوجا۔( در منثور الصافات تحت الایۃ: ۹۷ ۷ / ۱۰۱-۱۰۲) نوٹ:اس واقعے کی بعض تفصیل سورہ انبیاء کی ایت نمبر68کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔