Surah Sad Ayat 41 (38:41)
The Letter Saad · Juz 23 · Makki
وَ اذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَۘ-اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍﭤ 41
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور ہمارے بندے ایوب کو یاد کروجب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے شیطان نے تکلیف اور ایذاپہنچائی ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور یاد کرو ہمارے بندہ ایوب کو جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے شیطان نے تکلیف اور ایذا لگادی۔
Tafseer (Urdu)
{و اذكر عبدنا ایوب: اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کرو۔} اس سے پہلی ایات میں حضرت داود اور حضرت سلیمان علیہما الصلوۃ والسلام کا واقعہ بیان کیا گیا اوریہ دونوں وہ مبارک ہستیاں ہیں جنہیں اللہ تعالی نے بے شمار نعمتیں عطا فرمائیں اب اس ایت میں حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کا واقعہ یاد دلایا جارہا ہے اور یہ وہ مبارک ہستی ہیں جنہیں اللہ تعالی نے طرح طرح کی ازمائشوں کے ساتھ خاص فرمایا۔ ان واقعات کو بیان کرنے سے مقصود ان کی سیرت میں غوروفکر کرنا ہے گویا کہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا’’اے پیارے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ اپنی قوم کی جہالت پر صبر فرمائیں کیونکہ دنیا میں حضرت داود اور حضرت سلیمان علیہما الصلوۃ والسلام سے زیادہ نعمت مال اور وجاہت والا کوئی نہیں تھا اور حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام سے زیادہ مشقت اور ازمائش میں مبتلا ہونے والا کوئی نہ تھااپ ان انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے احوال میں غور فرمائیں تاکہ اپ جان جائیں کہ دنیا کے احوال کسی کے لئے ایک جیسے نہیں ہوتے اور یہ بھی جان جائیں کہ عقلمند کو مشکلات پر صبر کرنا چاہئے۔( تفسیرکبیر ص تحت الایۃ: ۴۱ ۹ / ۳۹۶) {انی مسنی الشیطن بنصب و عذاب: مجھے شیطان نے تکلیف اور ایذاپہنچائی ہے۔} ایک قول یہ ہے کہ تکلیف اور ایذا سے آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی بیماری اور اس کے شدائد مراد ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد بیماری کے دوران شیطان کی طرف سے ڈالے جانے والے وسوسے ہیں جو کہ ناکام ہی ثابت ہوئے۔ حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کو ازمائش میں مبتلاء کئے جانے کے مختلف اسباب بیان کئے گئے ہیں ابو البرکات عبداللہ بن احمد نسفی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’اللہ تعالی نے کسی خطا کی وجہ سے حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کو ازمائش میں مبتلا نہیں کیا بلکہ اپ علیہ الصلوۃ والسلام کے درجات (مزید) بلند کرنے کیلئے ازمائش میں مبتلا کیا۔( مدارک ص تحت الایۃ: ۴۱ ص۱۰۲۳) اللہ تعالی کے ادب اور تعظیم کا تقاضا: یاد رہے کہ اچھے برے تمام افعال جیسے ایمان کفر اطاعت اور معصیت وغیرہ کا خالق اللہ تعالی ہے اور ان افعال کو پیدا کرنے میں اللہ تعالی کا کوئی شریک نہیں برے افعال کو بھی اگرچہ اللہ تعالی نے پیدا فرمایا ہے لیکن اس کے ادب اور تعظیم کا تقاضا یہ ہے کہ کلام میں ان افعال کی نسبت اللہ تعالی کی طرف نہ کی جائے۔( تفسیر قرطبی ص تحت الایۃ: ۴۱ ۸ / ۱۵۵ الجزء الخامس عشر)اسی ادب کی وجہ سے حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام نے تکلیف اور ایذا پہنچانے کی نسبت شیطان کی طرف فرمائی ہے۔ اللہ تعالی اپنے نیک بندوں کو ازماتا ہے: اس ایت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالی اپنے نیک بندوں کو ازماتا ہےحدیث پاک میں ہےحضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سب سے زیادہ سخت ازمائش کس کی ہوتی ہے سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی پھر اپنے درجے کے حساب سے مقربین کی۔ادمی کی ازمائش اس کے دین کے مطابق ہوتی ہے اگر دین میں مضبوط ہو تو سخت ازمائش ہوتی ہے اور اگر دین میں کمزور ہو تو اسی حساب سے ازمائش کی جاتی ہےبندے کے ساتھ ازمائشیں ہمیشہ رہتی ہیں یہاں تک کہ وہ زمین پر اس طرح چلتا ہے کہ ا س پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔( ترمذی کتاب الزہد باب ما جاء فی الصبر علی البلائ ۴ / ۱۷۹ الحدیث: ۲۴۰۶) نوٹ: حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کی بیماری اور مال و اولاد کی ہلاکت کا تفصیلی بیان سورہ انبیاء کی ایت نمبر83اور84 میں گزر چکا ہے۔